انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے کاروباری افراد ہوشیار، بڑا فیصلہ کرلیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک :ایف بی آر نے لاکھوں انکم ٹیکس گوشواروں کے بتدریج آڈٹ کا فیصلہ کردیا،جس کے بعد غیر اعلانیہ،خفیہ آمدن یا غلط گوشوارے جمع کرانے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔
حکام ایف بی آر کےمطابق پہلےمرحلےمیں 7سے 10لاکھ گوشوارے اسکین کئےجائیں گے،تنخواہ دار اور کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کےگوشوارے شامل ہیں، ایف بی آرگوشواروں میں غلط بیانی اورچھپائی گئی آمدن کی نشاندہی کرے گا،بڑے سرمایہ دار، سی ای اوز اور افسران کے گوشوارے بھی زد میں آئیں گے۔
پی جی ٹرینی ڈاکٹروں کی سنی گئی
ایف بی آر کے مطابق ٹیکس گوشواروں کا تجزیہ اے آئی سمیت جدید ڈیٹا اینالیسس سسٹم سے کیا جائے گا، گوشوارے غلط ثابت ہونے پر بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی ہوگی، گزشتہ سال کے مقابلے 25 فیصد کم ٹیکس دینے والے پکڑ میں آئیں گے،ایف بی آر نے سال 2025 کے آڈٹ پلان کی منظوری دے دی ہے۔
حکام کے مطابق 30 نومبر تک ٹیکس گوشواروں کی تعداد 70 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے،چیئرمین ایف بی آر 80 فیصد انکم ٹیکس گوشواروں کے آڈٹ کا اعلان کرچکے۔
طلبہ کی موج مستیاں ختم، تعلیمی اداروں پر ایک بڑی پابندی عائد
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔