لبریشن فرنٹ کی یاسین ملک کے مقدمے میں تاخیری حربے اپنانے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
محمد یاسین ملک نے گزشتہ روز تہاڑ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے کہا کہ جب سے این آئی اے نے ان کی سزائے موت کی درخواست عدالت میں دائر کی ہے وہ مسلسل نفسیاتی اذیت سے گزر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے اپنے نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں جاری مقدمے میں تاخیری حربے آزمانے کی شدید مذمت کی ہے۔ ذراِئع کے مطابق بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے محمد یاسین ملک کو ایک جھوٹے مقدمے میں دی گئی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرانے کے لئے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ محمد یاسین ملک نے گزشتہ روز تہاڑ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے کہا کہ جب سے این آئی اے نے ان کی سزائے موت کی درخواست عدالت میں دائر کی ہے وہ مسلسل نفسیاتی اذیت سے گزر رہے ہیں۔ یاسین ملک نے این آئی اے کی جانب سے استعمال کیے جانے والے تاخیری حربوں کو بھانپتے ہوئے عدالت پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اس کیس کا فیصلہ سنائیں۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت 28جنوری 2026ء تک ملتوی کر دی۔لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان محمد رفیق ڈار نے ایک بیان میں کل سماعت کے دوران این آئی اے کی طرف سے ان کیمرہ عدالتی کارروائی کی درخواست پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے کی طرف سے اس عرضی کا مقصد کیس کے حقائق کو چھپانا اور یاسین ملک کو انصاف سے محروم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کی درخواست کی منظوری دراصل حکومت کی یکطرفہ کاروائی کے لئے راہ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ رفیق ڈار نے کہا کہ گزشتہ چھ سال سے قید تنہائی اور تہاڑ جیل میں ناکافی طبی سہولیات نے یاسین ملک کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد یاسین ملک کی درخواست آئی اے عدالت میں کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔