امریکا نے پاکستان کے لیے اپنی ویزا پالیسی میں متعدد تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد سیکیورٹی جانچ کو مزید سخت بنانا اور درخواستوں کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

نئی پالیسی میں جہاں سوشل میڈیا، صحت اور مالی شفافیت سے متعلق سخت اقدامات شامل کیے گئے ہیں، وہیں بعض پاکستانی درخواست دہندگان کے لیے انٹرویو چھوٹ اور آن لائن اپوائنٹمنٹ کے نظام میں آسانیاں بھی فراہم کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی ویزا اور گرین کارڈ کے قواعد مزید سخت کردیے گئے

سوشل میڈیا کی جانچ اب لازم قرار

امریکی قونصلیٹ کراچی اور لاہور کی جانب سے جاری تازہ ہدایات کے مطابق اب پاکستان سے غیر ہجرتی ویزوں خصوصاً تعلیم (ایف)، تربیت (ایم) اور تبادلہ پروگرام (جے) ویزوں کے لیے درخواست دینے والوں کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو پبلک رکھنا ہوگا۔

اس کا مقصد قونصلیٹ افسران کو درخواست دہندگان کی آن لائن سرگرمیوں اور شناخت کی تصدیق میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اگر کوئی امیدوار غلط یا نامکمل معلومات فراہم کرتا ہے، یا اپنے اکاؤنٹس کو نجی رکھتا ہے، تو اس کی درخواست مسترد ہو سکتی ہے۔

یہ اقدام سیکیورٹی کے سخت معیار اور جعلی دستاویزات کے خلاف عالمی امریکی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم بعض ماہرین کے نزدیک اس سے شہریوں کی ذاتی رازداری کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

آن لائن اپوائنٹمنٹ نظام میں بہتری:

فروری 2025 سے امریکا نے اپنے آن لائن ویزا اپوائنٹمنٹ سسٹم میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔ اس نئے نظام کے تحت تمام درخواست دہندگان کو نیا پروفائل بنانا ہوگا، جبکہ وہی ای میل ایڈریس استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس سے پہلے فیس ادا کی گئی تھی یا اپوائنٹمنٹ بک کی گئی تھی۔

امریکی سفارت خانہ اسلام آباد اور قونصلیٹ جنرل کراچی کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد درخواستوں کے عمل کو ’زیادہ شفاف، تیز اور منظم‘ بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستانی شہریوں کو سہولت ملے گی اور غلطیوں یا تاخیر کے امکانات کم ہوں گے۔

انٹرویو چھوٹ کی پالیسی میں نرمی:

نئی پالیسی میں ایک اہم ریلیف بی 1 یا بی 2 (تجارتی اور سیاحتی) ویزوں کے لیے دیا گیا ہے۔ امریکی مشن پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ایسے شہری جن کے ویزے کی مدت ختم ہوئے 48 ماہ سے کم عرصہ گزرا ہے، وہ اب بغیر انٹرویو کے ویزے کی تجدید کے اہل ہو سکتے ہیں۔

یہ سہولت ان پاکستانیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی جن کے سابقہ ویزے درست طریقے سے استعمال ہوئے ہیں۔ تاہم سفارت خانہ نے واضح کیا ہے کہ ہر کیس کا انفرادی جائزہ لیا جائے گا اور اگر ضرورت محسوس ہو تو درخواست دہندہ کو انٹرویو کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔

صحت اور دائمی بیماریوں سے متعلق نئی رہنمائی:

امریکا کے محکمہ خارجہ نے حالیہ ہدایات میں صحت سے متعلق معلومات کو بھی ویزا جائزے کا حصہ بنایا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی رہنمائی میں قونصلیٹ افسران کو کہا گیا ہے کہ وہ ایسے درخواست دہندگان کے کیسز پر خصوصی توجہ دیں جو ذیابیطس (Diabetes)، موٹاپے (Obesity) یا کسی اور دائمی بیماری میں مبتلا ہیں۔

سرکاری ضابطہ (9 FAM 302.

2-3) کے مطابق، اگر کسی شخص کی صحت اس حد تک متاثر ہے کہ وہ امریکا میں قیام کے دوران خود کفیل نہ رہ سکے یا علاج کے لیے سرکاری امداد (Public Benefits) کا محتاج بن جائے، تو افسران اس بنیاد پر درخواست کو ’Public Charge‘ کے زمرے میں دیکھ سکتے ہیں۔

تاہم امریکی سفارت خانے اسلام آباد کی ویب سائٹ پر ایسی کوئی مخصوص ہدایت پاکستانی شہریوں کے لیے جاری نہیں کی گئی۔ اب تک یہ رہنمائی عمومی نوعیت کی ہے اور زیادہ تر امیگرنٹ یا طویل قیام والے ویزوں پر لاگو ہوتی ہے، نہ کہ سیاحتی یا مختصر قیام والے ویزوں پر ایسی پابندی کا ذکر ہے۔

واضح رہے کہ یہ رول میڈیکل معائنہ (کلاس B کنڈیشنز) کے نتائج پر مبنی ہوتا ہے، جہاں سنگین صحت کے مسائل کو self-sufficiency پر اثرات کی بنیاد پر جائزہ لیا جاتا ہے۔ تاہم یہ تبدیلیاں ابھی تک داخلی کیبل کی شکل میں ہیں اور سرکاری ویب سائٹ پر شائع نہیں ہوئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہدایات عمومی نوعیت کی ہیں اور بنیادی طور پر امیگرنٹ یا طویل قیام والے ویزوں (جیسے گرین کارڈ) پر لاگو ہوتی ہیں، نہ کہ سیاحتی (B-1/B-2) یا مختصر قیام والے ویزوں پر۔ محکمہ خارجہ کی جانب سے بھی ایسی کوئی خصوصی ہدایات نہ تو ویب سائٹ پر دستیاب ہیں اور نہ ہی کسی سرکاری بیان میں ان کا اعلان کیا گیا۔

’پاکستان جیسے ممالک میں ذیابیطس اور موٹاپے کی شرح عالمی اوسط سے کہیں زیادہ‘

البتہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مختلف میڈیا رپورٹس پر یہ خبر تیزی سے پھیل رہی ہے کہ ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کے لیے امریکا کا ویزا حاصل کرنا اب ناممکن ہو گیا ہے۔ جو عوام میں مزید تشویش پیدا کررہا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ذیابیطس اور موٹاپے کی شرح عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے، یہ خبر تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

پاکستان میں ان تبدیلیوں پر ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی سخت جانچ اور صحت کے معیار کی شمولیت امریکی ویزا کے عمل کو مزید سخت کر دے گی۔ دوسری جانب انٹرویو چھوٹ اور آن لائن سسٹم میں بہتری پاکستانی شہریوں کے لیے سہولت پیدا کرے گی۔

مزید پڑھیں: امریکی ویزا کے لیے سوشل میڈیا کی جانچ پڑتال: ’پرائیویسی ہر شخص کا بنیادی حق ہے‘

صحت کے ماہرین کا خیال ہے کہ ذیابیطس یا موٹاپے جیسی بیماریوں کو ویزا پالیسی میں شامل کرنا ایک حساس معاملہ ہے، کیونکہ یہ بیماریاں دنیا بھر میں عام ہیں اور زیادہ تر افراد ان کے ساتھ نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا صحت کے مسائل نئی تبدیلیاں وی نیوز ویزا پالیسی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا صحت کے مسائل نئی تبدیلیاں وی نیوز ویزا پالیسی ذیابیطس اور موٹاپے درخواست دہندگان قیام والے ویزوں ویزا پالیسی امریکی ویزا سوشل میڈیا پالیسی میں کے مطابق ہیں اور آن لائن صحت کے کی گئی کے لیے

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران