میئر استنبول اکرم اوغلو کو 2 ہزار سال قید کی سزا دینے کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
خبر ایجنسی کے مطابق ملزمان پر ریاست کو 3 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے، اکرم اوغلو بدعنوانی مقدمات میں مارچ سے جیل میں قید ہیں۔ اکرم اوغلو اور ری پبلکن پیپلز پارٹی نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترک استغاثہ نے استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کے خلاف بدعنوانی مقدمات میں 2 ہزار سال سے زائد قید کی سزا کی درخواست کر دی۔ ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کے خلاف بدعنوانی مقدمات کی سماعت کے دوران چیف پراسیکیوٹر نے 401 افراد کے خلاف بدعنوانی نیٹ ورک میں ملوث ہونے کی فرد جرم پیش کی۔ خبر ایجنسی کے مطابق ملزمان پر ریاست کو 3 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے، اکرم اوغلو بدعنوانی مقدمات میں مارچ سے جیل میں قید ہیں۔ اکرم اوغلو اور ری پبلکن پیپلز پارٹی نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بدعنوانی مقدمات اکرم اوغلو
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔