کوئٹہ: غیرقانونی مقیم افراد کیخلاف کارروائی، 2 ہزار سے زائد افغان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
کوئٹہ شہر میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کے دوران 2 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق کوئٹہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارراوئیاں جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پولیس نے مزید 2038 افغان باشندوں کو گرفتار کیا ہے۔
اس سال یکُم ستمبر سے اب تک 60 ہزار سے زائد افغان باشندوں کو گرفتار کر کے واپس افغانستان بجھوایا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار افغان باشندوں کو ڈی سی آفس میں قائم ڈیپورٹیشن سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے، ضروری کارروائی کے بعد اِنہیں چمن کے راستے واپس اِن کے وطن افغانستان بجھوایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: افغان باشندوں
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔