data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکراتی ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے ترکیہ نے ایک نئی سفارتی کوشش شروع کر دی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع اور انٹیلی جنس چیف کو خصوصی مشن پر پاکستان بھیجیں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان ترک وفد کے دورے کی تاریخ طے کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے، اور توقع ہے کہ آئندہ ایک یا دو روز میں حتمی شیڈول طے کر لیا جائے گا۔ ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سطحی وفد اسی ہفتے پاکستان پہنچے گا اور پاکستانی حکام کے ساتھ پاک افغان مذاکرات کی بحالی اور فائر بندی کے طریقۂ کار پر تفصیلی بات چیت کرے گا۔

ترک صدر اردوان کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد فریقین کے درمیان فائر بندی کو حتمی شکل دینا اور سرحدی امن کے قیام کے لیے ایک قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صدر اردوان نے باکو کے حالیہ دورے سے واپسی پر وزیرِاعظم شہباز شریف سے مشاورت کے بعد اس فیصلے کا اعلان کیا۔

یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازع کے حل کے لیے اس سے قبل قطر اور ترکیہ میں مذاکرات کے متعدد دور ہو چکے ہیں، تاہم افغان طالبان کی جانب سے کسی تحریری ضمانت نہ دیے جانے کے باعث وہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے درمیان کے لیے

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی