Al Qamar Online:
2026-06-03@03:14:11 GMT

حماس نے ایک اور اسرائیلی  فوجی کی لاش واپس کردی

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے اس فوجی کی لاش واپس کر دی ہے جو 2014 کی جنگ کے دوران مارا گیا تھا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق 23 سالہ لیفٹیننٹ حدار گولڈن کی موت اس وقت ہوئی جب اسرائیلی فورسز نے غزہ پر شدید حملے کیے تھے اور اس کی لاش حماس کے قبضے میں چلی گئی تھی۔ اب برسوں بعد اسی فوجی کی لاش جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی گئی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج نے لاش کی شناخت کی تصدیق کر دی ہے اور بتایا ہے کہ گولڈن کو مقبوضہ علاقوں میں فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی قیادت نے فوجی کی لاش واپسی کو سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، حالانکہ یہ اقدام حماس کی جانب سے انسانی بنیادوں پر کیا گیا۔

حماس کے عسکری ونگ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت اب تک 20 زندہ یرغمالیوں کو رہا کیا جا چکا ہے جب کہ 28 میں سے 24 جاں بحق افراد کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کی جا چکی ہیں۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت عالمی دباؤ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مداخلت کے بعد ممکن ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل فوجی کی لاش

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان