بختیرآباد ڈومکی میں مختلف شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ حکومت اور ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے آئینی و اخلاقی ذمہ دار ہیں، لیکن بدقسمتی سے عوام کو وہ امن و تحفظ میسر نہیں جو انکا بنیادی حق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر تشویش ہے۔ عام شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ بلوچستان کا کھویا ہوا امن بحال کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورۂ بختیار آباد ڈومکی کے دوران پاک وطن پارٹی کے چیئرمین اور ممتاز قبائلی رہنماء میر سیف اللہ خان ڈومکی سے خصوصی ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں ملکی و صوبائی سیاسی صورتحال، امن و امان اور عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے بشیر احمد ڈومکی کی رہائش گاہ پر مختلف معززینِ علاقہ، قبائلی و سماجی شخصیات سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت سنگین امن و امان کے بحران سے دوچار ہے۔ روزانہ کے بنیاد پر ہونے والے بدامنی کے واقعات نے عوام کو خوف و اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام شہری، تاجر اور مزدور طبقہ بدامنی کے سبب شدید متاثر ہیں۔ حکومت اور ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے آئینی و اخلاقی ذمہ دار ہیں، لیکن بدقسمتی سے عوام کو وہ امن و تحفظ میسر نہیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا کھویا ہوا امن بحال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس کے لیے قبائلی و سیاسی قیادت، مذہبی رہنماء، سول سوسائٹی اور حکومت کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین امن، انصاف اور وحدت کے قیام کے لیے ہر سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں، مگر ان کے ساتھ معاشی، سماجی اور سیاسی ناانصافیوں نے احساس محرومی کو جنم دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ امن و ترقی کے عمل میں عوامی نمائندوں کو شریک کرے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ اس موقع پر میر سیف اللہ خان ڈومکی نے بھی علاقائی حالات، عوامی مشکلات اور سیاسی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک میں امن، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے تمام محب وطن قوتوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ علامہ مقصود کہ بلوچستان ڈومکی نے کے لیے

پڑھیں:

فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا