مودی سرکار کا نیا حربہ، مسلم علاقوں کے نام ہندو رنگ میں ڈھالنے کی مہم تیز
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
بھارت میں مودی حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیوں نے ایک بار پھر مسلم ثقافت اور ورثے پر حملے کو نمایاں کر دیا ہے۔
اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھیم پور کھیری کے علاقے مصطفیٰ آباد کا نام تبدیل کرکے کبیر دھام رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے بقول، یہ فیصلہ مقامی ہندوؤں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ماضی میں مسلمان حکمرانوں نے ایودھیا کا نام فیض آباد، پریاگ راج کا الہٰ آباد اور کبیر دھام کا مصطفیٰ آباد رکھا تھا، اب مودی حکومت ان تاریخی مقامات کو ہندو مذہب سے منسوب کرنے کی مہم جاری رکھے گی۔
رپورٹ کے مطابق، ریاستی فنڈز اب قبرستانوں کی چاردیواری کی تعمیر کے بجائے ہندو عقائد اور ورثے کی ترقی پر خرچ کیے جائیں گے۔ مبصرین کے مطابق بی جے پی کی یہ مہم محض ناموں کی تبدیلی نہیں بلکہ مسلمانوں کی تاریخ، شناخت اور تہذیب کو مٹانے کی منظم سازش ہے۔
مودی حکومت کا نعرہ “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” اب عملی طور پر “سب کو مٹاؤ، ایک کا راج” کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کو ریاستی سطح پر نفرت، انتقام اور فرقہ وارانہ تقسیم کا سب سے زیادہ سامنا ہے، جس سے بھارت کا سیکولر تشخص خطرے میں پڑ گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔