اجتماعِ عام کی تیاریوں میں تیزی، بدل دو نظام خواتین کی جدوجہد میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا، جاوداں فہیم
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کے تحت ہونے والے اجتماعِ عام کی تیاریاں بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ جاری ہیں، اس سلسلے میں جامعۃ المحصنات کی پرنسپل رابعہ خبیب، بیٹھک اسکول کی مرکزی رکن ہما کلیم اور نگرانِ اجتماعِ عام فائزہ صدیقی نے ناظمہ حلقہ خواتین کراچی جاوداں فہیم سے ملاقات کی، ملاقات میں نائب ناظمہ فرح عمران، شیبا طاہر، ہاجرہ عرفان، سمیہ عاصم، سمیعہ اسلم اور رکنِ مرکزی شوریٰ اسماء سفیر بھی شریک تھیں۔
اجلاس کے دوران اجتماعِ عام سے متعلق انتظامی امور، رضاکار ٹیموں کی تیاریوں اور ادارہ جاتی شرکت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جامعۃ المحصنات اور بیٹھک اسکول کی جانب سے اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں اور تیاریوں کی تازہ پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔
پرنسپل رابعہ خبیب نے کہا کہ جامعۃ المحصنات کی طالبات اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھانے کے لیے پُرعزم ہیں، اساتذہ اور طالبات دونوں ہی اس اجتماع کو تاریخی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بیٹھک اسکول کی نگران فائزہ صدیقی نے بتایا کہ اسکول کے طلبہ و طالبات اور خواتین معلمات بدل دو نظام کے پیغام کو عام کرنے کے لیے پرجوش ہیں اور نظم و ضبط کے ساتھ اجتماع کی کامیابی کے لیے شب و روز محنت کر رہے ہیں۔
ناظمہ حلقہ خواتین کراچی جاوداں فہیم نے اس موقع پر کہا کہ اجتماعِ عام خواتین کی فکری، دعوتی اور تنظیمی جدوجہد میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی محنت ہی کامیابی کی ضمانت ہے، یہ اجتماع کارکنان کے اندر نیا عزم اور جوش پیدا کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کے ساتھ مل کر اس فرسودہ اور کرپٹ نظام کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ جاوداں فہیم نے تعلیم یافتہ خواتین سے اپیل کی کہ وہ کرپشن سے پاک اور منصفانہ پاکستان کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد تیز کریں۔
ناظمہ کراچی نے آخر میں کہا کہ ہم ملک کی ہر عورت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اجتماعِ عام میں شرکت کرے، ہماری نظم و اتحاد کو قریب سے دیکھے اور اس تحریکِ اصلاحِ معاشرہ کا حصہ بنے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جاوداں فہیم کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔