اجتماع عام خواتین کی بیداری و اجتماعی عزم کا اظہار ہوگا‘ رخشندہ منیب
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر)حلقہ خواتین جماعت اسلامی سندھ کی ناظمہ صوبہ رخشندہ منیب نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا اجتماعِ عام ایمان کی تجدید، عمل کی تنظیم اور کردار کی تعمیر کا مظہر ہے۔یہ اجتماع جماعت کے پیغام بدل دو نظام کی عملی تعبیر بنے گا۔یہ محض ایک پروگرام نہیں بلکہ سندھ کی خواتین کی بیداری اور اجتماعی عزم کا اظہار ہے۔یہ بات انہوں نے صوبائی دفتر میں میڈیا، ٹرانسپورٹ اور طعام سمیت مختلف کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔ناظمہ صوبہ نے کہا کہ اجتماع عام کی کامیابی کے لیے تمام کمیٹیوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ میڈیا کمیٹی کو ہدایت کی کہ جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے پیغامِ حق کو وقار، سادگی اور صداقت کے ساتھ عوام تک پہنچایا جائے اور سندھ کی زبان و ثقافت کے رنگ میں دعوتی پیغام عام کیا جائے۔انہوں نے ٹرانسپورٹ کمیٹی سے کہا کہ اضلاع سے آنے والے قافلوں کی روانگی، استقبالیہ اور واپسی کا منظم نظام تیار کیا جائے تاکہ شرکا کو سہولت میسر آئے جبکہ طعام کمیٹی کو ہدایت دی کہ اجتماع میں آنے والی خواتین کے لیے صاف اور سادہ خوراک کے بہتر انتظامات کیے جائیں۔رخشندہ منیب نے استقبالیہ، نظم و ضبط، سیکورٹی اور فراہمی آب سمیت دیگر کمیٹیوں کے کاموں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعِ عام 2025ء سندھ کی سرزمین پر ایمان و عزمِ نو کا عنوان بنے گا۔
ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی سندھ رخشندہ منیب اجتماع عام کی تیاریوں کے سلسلے میں اجلاس سے خطاب کررہی ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ کی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔