ٹریفک قوانین میں تضاد: ایک جرم، تین سزائیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک :کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اب جیب پر بھاری پڑنے لگی ہے، پولیس نے ای چالان سسٹم کے بعد بھاری جرمانے عائد کرنا شروع کیے ہیں، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں یہی جرم کہیں زیادہ ”سستا“ پڑتا ہے۔
اگر رفتار کی حد سے تجاوز کریں تو کراچی میں موٹر سائیکل سوار کو پانچ ہزار روپے کا جرمانہ ہوگا، اسلام آباد میں صرف ایک ہزار، جبکہ لاہور میں صرف دو سو روپے ہے۔
لیسکو کا سموگ کے دوران بجلی بریک ڈاؤن سے بچاؤ کیلئے اقدامات کا آغاز
کار اور جیپ والوں کے لیے بھی حساب کچھ کم نہیں، کراچی میں اوور اسپیڈنگ پر دس ہزار روپے، اسلام آباد میں پندرہ سو، اور لاہور میں محض 750 روپے کا چالان ہے۔
بھاری گاڑیوں جیسے بس، ٹریلر یا ڈمپر پر اگر حد سے زیادہ رفتار ہو تو کراچی میں بیس ہزار روپے جرمانہ ہے، جب کہ لاہور اور اسلام آباد میں صرف ڈھائی ہزار روپے جرمانہ ہوتا ہے۔
رانگ سائیڈ ڈرائیونگ پر کراچی میں جرمانہ پچیس ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک، جبکہ اسلام آباد میں یہی جرم صرف ایک ہزار اور لاہور میں 200 سے 750 روپے میں ”نمٹ“ جاتا ہے۔
ماضی کی معروف اداکارہ سیمی زیدی کس حال میں اور کہاں؟
بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے والوں پر کراچی میں بیس سے تیس ہزار روپے تک چالان ہے، جبکہ اسلام آباد میں ایک ہزار سے آٹھ ہزار اور لاہور میں محض 200 سے ایک ہزار روپے ہے۔
نابالغ ڈرائیور پکڑا گیا تو کراچی میں کم از کم پچیس ہزار اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے کا چالان ہوگا، اسلام آباد میں 2500 روپے جرمانہ، جبکہ لاہور میں اکثر معاملہ وارننگ پر ختم ہوجاتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ”ایک ہی ملک ہے مگر قانون الگ الگ کیوں؟“ ان کا شکوہ یہ بھی ہے کہ ”کراچی کی سڑکیں تو ویسے ہی کھڈوں سے بھری ہیں، اوپر سے چالان بھی سب سے زیادہ!“
تجارتی معاہدہ: امریکی خام تیل کا پہلا بحری جہاز پاکستان پہنچ گیا
یوں لگتا ہے جیسے ٹریفک قوانین کے نفاذ میں کراچی والوں کے لیے خصوصی ”مہنگائی ایڈیشن“ جاری کیا گیا ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسلام آباد میں ہزار روپے کراچی میں لاہور میں ایک ہزار
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔