اسلام آباد میں بلدیات کے متبادل نظام لانے کی تیاریاں، وفاقی کونسل کی تشکیل زیر غور
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اسلام آباد میں بلدیات کے متبادل نظام لانے کی تیاریاں، وفاقی کونسل کی تشکیل زیر غور WhatsAppFacebookTwitter 0 12 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) وفاقی دارالحکومت میں بلدیات کے متبادل نظام لانے کی تیاریاں، اسلام آباد میں وفاقی کونسل کی تشکیل زیر غور ہے۔
وفاقی کونسل 15 سے 20 ارکان پر مشتمل ہو گی، کونسل کی الگ اسمبلی اور ارکان کا انتخاب الیکشن سے ہو گا، کونسل میئر کا انتخاب کرے گی۔
ذرائع کے مطابق چیف کمشنر وفاقی کونسل میں چیف سیکرٹری کے فرائض انجام دیں گے، وفاقی کونسل بلدیاتی نظام کی جگہ لے گی۔
احسن اقبال کی صدارت میں کمیٹی نے مجوزہ نظام پر کام شروع کر دیا، کمیٹی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
ذرائع کے مطابق ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت وفاقی کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے گا، وفاقی کونسل اسلام آباد کے مسائل کے حل کی ذمہ دار ہو گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا ملک بھر میں پمپس بند کرنے کا عندیہ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا ملک بھر میں پمپس بند کرنے کا عندیہ گلگت بلتستان میں 24 جنوری کو عام انتخابات کرانے کی منظوری ملکی سالمیت کے خلاف چلنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، بلاول بھٹو کا اعلان عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ناحق قید اور مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ملک میں دوسرے ہفتے بھی ہفتہ وار مہنگائی میں کمی، سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 3.90 فیصد پر آگئی اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خاتمے کیخلاف تسلسل کیساتھ کارروائیوں میں 712 کنال سے زائد قیمتی سرکاری اراضی واگزار
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی کونسل کونسل کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔