اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خاتمے کیخلاف تسلسل کیساتھ کارروائیوں میں 712 کنال سے زائد قیمتی سرکاری اراضی واگزار
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خاتمے کیخلاف تسلسل کیساتھ کارروائیوں میں 712 کنال سے زائد قیمتی سرکاری اراضی واگزار WhatsAppFacebookTwitter 0 12 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خاتمے کیخلاف گرینڈ آپریشن تیزی سے جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ڈپلومیٹک انکلیو سے ملحقہ علاقے میں انسداد تجاوزات آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ اس آپریشن کے دوران ابتک اربوں روپے مالیت کی 712 کنال سے زائد قیمتی سرکاری اراضی واگزار کروا لی گئی۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ سے جاری انسداد تجاوزات آپریشن کے دوران جامع حکمت عملی کے تحت غیر قانونی قابضین سے اراضی کو واگزار کروایا جا رہا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر ڈپٹی ڈی جی انفورسمنٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ اس گرینڈ آپریشن کی مسلسل نگرانی خود کررہی ہیں۔ جبکہ آئی سی ٹی ایڈمنسٹریشن سے اے ڈی سی جی صاحبزادہ یوسف اور اسلام آباد پولیس سے ایس پی سلیمان بھی آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
واضح رہے، انسداد تجاوزات آپریشن سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کئے گیے اور غیر قانونی قابضین کو سرکاری اراضی کو ازخود خالی کرنے کیلئے باقاعدہ نوٹسز بھی جاری کئے گئے۔ اسی طرح آپریشن سے پہلے تمام رہائشیوں کے لیگل کلیمز کا جائزہ لینے کیلئے سائٹ آفس بھی بنایا گیا۔ آپریشن سے قبل ازخود غیر قانونی تعمیرات خالی کرنے کیلئے اعلانات بھی کروائے گئے۔ دوران آپریشن متعدد غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کو پُرامن انداز میں بھاری مشینری کی مدد سے مسمار کردیا گیا۔
غیر قانونی اراضی کی اسٹامپ پیپرز پر دھوکہ دہی کے زریعے خرید وفروخت میں شامل افراد کیخلاف ایف آئی آر کا اندراج بھی جاری ہے۔ اس ضمن میں مقامی افراد سے تعاون کی اپیل بھی کی گئی کہ وہ سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کیساتھ بھرپور تعاون کریں۔ سی ڈی اے انتظامیہ نے کہا کہ کسی بھی غیر قانونی قبضے کی صورت میں متعلقہ حکام کو فوراً اطلاع دیں۔ سی ڈی اے انتظامیہ نے مزید کہا کہ غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خلاف یہ کارروائیاں تسلسل کے ساتھ مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔
چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے مکمل تدارک کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ واگزار کروائی کروائی گئی اراضی کو دوبارہ قبضے سے محفوظ بنانے کیلئے طویل المدت اقدامات کئے جائیں۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور منظم منصوبہ بندی کیلئے غیر قانونی قبضوں اور تعمیرات کیخلاف کارروائیاں انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خاتمے اور قبضہ مافیا کے خلاف زیرہ ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو دنیا کا بہترین، خوبصورت ترین اور منظم شہر بنانا ہے۔
واضح رہے گزشتہ کئی ماہ سے غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خلاف جاری آپریشنز میں ابتک اسلام آباد بھر میں اربوں روپے کی قیمتی سرکاری اراضی واگزار کروائی جاچکی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان 257 ملین ڈالر کے ترقیاتی معاہدے طے پا گئے پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان 257 ملین ڈالر کے ترقیاتی معاہدے طے پا گئے کہوٹہ میں مسافر وین ڈرائیور کی غفلت سے دریا میں جاگری، 3 افراد جاں بحق پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز میں ڈیجیٹل امتحانی اصلاحات کا آغاز اللہ تعالیٰ نے ہماری افواج کو محافظ حرمین شریفین ہونے کا شرف عطا فرمایا ہے، سربراہ جامعۃ الرشید عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے: سہیل آفریدی امریکا چاہتا ہے یوکرین ڈونباس شہر سے دستبردار ہوجائے، زیلنسکی کا بڑا انکشافCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کے خاتمے اسلام آباد سی ڈی اے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔