’نکال سنت اور اس میں سکون ہے‘، رابی پیرزادہ نے شادی کا اشارہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پاکستان کی سابقہ گلوکارہ رابی پیرزادہ نے ایکس پر اپنے ایک پیغام میں اپنی شادی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نکاح سنت ہے اور سنت میں ہی برکت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’خواتین گھریلو مکھیاں‘، رابی پیرزادہ نے عدنان صدیقی کے بیان کی حمایت کر دی
رابی پیرزادہ نے کہا کہ نکاح وہ پاک رشتہ ہے جو محبت کو جائز، عزت کو مضبوط اور رشتے کو ہمیشہ کے لیے مقدس بنا دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ ہر نکاح کو سکون، محبت اور رحمت سے بھر دے۔
علاوہ ازیں رابی پیرزادہ نے انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں خاتون (غالباً وہ خود) اور مرد نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔
ان کی نئی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ان کی شادی کے حوالے سے گفتگو اور تبصرے شروع کردیے ہیں۔
مزید پڑھیے: رابی پیرزادہ نے لمبے، گھنے بالوں کے لیے جادوئی نسخہ بتا دیا
رابی پیرزادہ نے تصویر شیئر کرتے ہوئے کچھ اشعار بھی لکھے۔ تاہم انہوں نے تصویر میں ان کے ہمراہ موجود شخص کے بارے میں کچھ نہیں بتایا مگر انہیں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مبارکبادیں موصول ہونا شروع ہوگئی ہیں۔
مزید پڑھیں: رابی پیرزادہ کو بالآخر مریم نواز کی پینٹنگ کا خریدار مل ہی گیا
واضح رہے کہ رابی پیرزادہ کو بطور گلوکارہ، اداکارہ اور ماڈل شہرت حاصل ہوئی لیکن کچھ سال قبل انہوں نے اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے لیے شوبز انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا تھا اور اب وہ ایک سماجی کارکن ہیں اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی نظر آتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رابی پیرزادہ رابی پیرزادہ شادی رابی پیرزادہ نکاح.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رابی پیرزادہ رابی پیرزادہ شادی رابی پیرزادہ نکاح رابی پیرزادہ نے کے لیے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت