سانحہ گل پلازہ: لائٹ بند نہ ہوتی تو جانیں بچ سکتی تھیں،عدالتی کمیشن میںانکشافات
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہوا۔ ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے بتایا کہ رات 10بج کر 35 منٹ پر گل پلازہ میں آگ کی اطلاع ملی، 10 بج کر 52 منٹ پر فائر بریگیڈ پہنچ گئی تھی۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شریک تھے؟ ڈی جی ریسکیو نے کہا کہ بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شامل نہیں تھا، جس وقت پہنچے گراؤنڈ پر آگ لگی ہوئی تھی، گراؤنڈ سے اندر جانے کا راستہ نہیں تھا۔ کمیشن کے سربراہ نے سوال کیا کہ متاثرین نے بتایا ہے کہ آگ نیچے تھی ونڈو گرل توڑی جاتی تو لوگوں کو بچایا جا سکتا تھا؟ ڈی جی ریسکیو نے کہا کہ گراؤنڈ فلور سے میزنائن اور فرسٹ فلور والے سمجھ رہے تھے آگ بجھ جائے گی تو نکل جائیں گے، دکاندار سامان نکال رہے تھے، گل پلازہ کے اندر قدرتی روشنی کا کوئی بندوبست نہیں تھا، دھواں اتنا تھا کہ موبائل فون کی ٹارچ سے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا، تنگ راستے کی وجہ سے لوگ پھنس گئے تھے۔ سانحہ گل پلازہ پر سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی کمیشن کی کارروائی میں چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ گل پلازہ کی لائٹ بند نہ ہوتی یا پلازہ میں ایمرجنسی لائٹس ہوتیں تو اتنا نقصان نہ ہوتا، اگر اعلان ہوتا چوکیدار دروازے کھول دیتے، تو بہت سے لوگ بچ سکتے تھے، پہلی اور دوسری منزل کی سیڑھیاں بند تھیں، ساڑھے 11 بجے پراپر آگ بجھانے کا کام شروع ہوا، ساڑھے 12 بجے واٹر کارپوریشن کا ٹینکر پہنچا، ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں؟ چیف فائر افسر نے بتایا کہ ہمیں علم نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔