data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260219-01-14
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے اجرا کے خلاف مختلف درخواستوں کی سماعت،ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے جواب عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ سندھ ہائیکورٹ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے اجرا کے خلاف مختلف درخواستوں کی سماعت ہوئی جہاں ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے جواب جمع کرایا گیا جس میں کہا گیا کہ بس اونرز ایسوسی ایشن سمیت تمام فریقین سے مشاورت کے بعد ای چالان کا نظام نافذ کیا گیا،ای چالان کا فیز 1 صرف ان سڑکوں پر نافذ کیا گیا جہاں روڈ انفراسٹرکچر اور ٹریفک آلات مکمل فعال ہیں، زیر تعمیر سڑکوں کو تعمیراتی کام مکمل ہونے تک ای چالان کے سسٹم میں شامل نہیں کیا گیا، حکومت سندھ سے 14 روز میں چالان کی ادائیگی پر پچاس فیصد رعایت دے رکھی ہے، جرمانوں میں ترمیم سندھ حکومت کی جانب سے کی گئی،ٹریفک پولیس کا ترمیم میں کوئی کردار نہیں، ٹریفک پولیس کا کام قانون کا نفاذ ہے، موٹر وہیکل آرڈننس کے تحت رولز مرتب کرنا حکومت کا اختیار ہے، گاڑیوں میں ٹریکر اور کیمرے نصب کرنا شہریوں کے تحفظ کے لیے ہے، شہر کے ٹریفک اور سنگین حادثات میں پبلک ٹرانسپورٹ کا بڑا حصہ ہے، تجاوزات، سڑکوں کی مرمت، فٹ پاتھ کی عدم موجودگی اور غیر فعال سگنلز شہری انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، ای چالان کا نظام شفاف اور قانونی دائرے میں ہے، ٹریفک چالان سے متعلق کسی بھی تنازع کی صورت میں ٹریفک کورٹس سے رجوع کیا جاسکتا ہے، جرمانے کی رقوم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہے، ٹریفک پولیس جرمانے کی رقم استعمال نہیں کرتی، ٹریفک پولیس کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے جس سے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جاتا رہا ہے، طارق منصور ایڈووکیٹ کا کہناتھا کہ سندھ حکومت نے جواب جمع نہیں کیا ہے، سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ دیگر محکموں کے جوابات کے لیے مہلت دی جائے، بس اونرز ایسوسی ایشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ مسافر بسوں کو نمبر پلیٹ جاری نہیں ہوئی لیکن جرمانے کیے جارہے ہیں، اسپیڈ لمٹ پر عمل درآمد کے باوجود مسافر بسوں کے سیکڑوں ای چالان کیے گئے، مسافر بسوں میں سیٹ بیلٹ موجود ہی نہیں ہوتی، ڈرائیور کیسے سیٹ بیلٹ لگائیں، اسپیڈ لمٹ اور سیٹ بیلٹ سے متعلق ای چالان پر حکم امتناع جاری کیا جائے، عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ کی بسوں پر حکم امتناع عائد کردیں؟ عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس

پڑھیں:

طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند

سٹی 42 : شدید آندھی اور طوفانی ہواؤں کے باعث موٹروے ایم-5 پر ہائی ٹرانسمیشن بجلی کی تاریں گر گئیں۔ حفاظتی اقدامات کے تحت روہڑی سے رحیم یار خان تک موٹروے پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔ 

ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق روہڑی اور پنوں عاقل سے شمالی سمت جانے والی ہیوی اور پبلک سروس گاڑیوں کا داخلہ روک دیا گیا ہے۔ موٹروے ایم-5 پر مقام 510 ساؤتھ باؤنڈ اور نارتھ باؤنڈ پر بجلی کی تاریں سڑک پر گرنے سے ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

ترجمان موٹروے پولیس کا کہنا ہےکہ مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر ٹریفک کو متبادل راستوں پر ڈائیورٹ کر دیا گیا۔ موٹروے پولیس کی جانب سے اقبال آباد اور گڈو کے مقامات پر متبادل راستوں کے ذریعے ٹریفک کو گزارا جا رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پنجاب سے سندھ جانے والے مسافر اقبال آباد سے بذریعہ رحیم یار خان قومی شاہراہ این-5 استعمال کر سکتے ہیں۔ 

ترجمان موٹروے پولیس کا کہنا ہےکہ موٹروے ایم-5 پر بجلی کی تاریں ہٹانے اور ٹریفک بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں ۔ سندھ سے پنجاب جانے والے مسافر رحیم یار خان سے قومی شاہراہ این-5 کے ذریعے موٹروے ایم-5 پر دوبارہ سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

موٹروے پولیس نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی