مریم نواز کے لیے 10 ارب روپے کی لاگت سے نیا طیارہ خرید لیا گیا، سوشل میڈیا پر شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لیے قریباً 10 ارب روپے کی لاگت سے نیا طیارہ خرید لیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گلف اسٹریم جی 500 طیارہ قریباً 10 ارب روپے کی لاگت کا ہے اور اس کا نمبر N144S ہے۔
Happy to note that the Government of Punjab, Pakistan has acquired a new, 2019-manufactured Gulfstream GVII-G500 aircraft for their VIP transport role.
— The STRATCOM Bureau (@OSPSF) February 16, 2026
طیارہ پاکستان میں سفر کا ریکارڈ رکھتا ہے مگر ابھی پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہوا اور یہ امریکی رجسٹریشن پر ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی پیسہ عوامی فلاح کے کاموں پر خرچ ہونا چاہیے، قومی خزانے سے لگژری طیارہ خریدنا مناسب نہیں۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ یہ طیارہ ’ایئر پنجاب‘ کے لیے ایک فلیٹ کے تحت خریدے جانے والے متعدد جہازوں میں سے ایک ہے۔
ان کے بقول کچھ جہاز خریدے جائیں گے اور کچھ لیز پر لیے جائیں گے، اور جیسے ہی تمام معاملات حتمی ہوں گے، عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews طیارہ خرید لیا گیا مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: طیارہ خرید لیا گیا مریم نواز وی نیوز کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔