لعل مشائخ قبرستان کی حد بندی اورتجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل نہ ہوسکا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-2-14
سکھر(نمائندہ جسارت ) لعل مشائخ قبرستان، کی حدبندی اور تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر سیاسی و سماجی اور کاروباری شخصیت عبدالقیوم قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کے مورخہ، 28 نومبر 2019 کو معزز اینٹی انکروچمنٹ ٹریبونل سکھر کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے کی نقل متعلقہ دفتر میں جمع کروائی گئی، جس میں لعل مشائخ قبرستان کی باقاعدہ حدبندی کروانے اور ممکنہ تجاوزات کے خاتمے سے متعلق واضح ہدایات دی گئی تھیں۔بعد ازاں معزز ہائی کورٹ آف سندھ، بینچ سکھر نے مورخہ 26 ،2021 کو آئینی درخواست نمبر D-99/2020 اور D-1294/2016 میں قبرستانوں کے لیے یکساں نوعیت کے احکامات صادر کیے تھے کہ تمام قبرستانوں سے تجاوزات کو فی الفور ختم کیا جائے اور ریونیو ریکارڈ کے مطابق باقاعدہ حدبندی عمل میں لائی جائے حدبندی کے بعد قبرستان کی چار دیواری تعمیر کی جائے یہ فیصلہ پورے پاکستان کے قبرستانوں میں تجاوزات کے روک تھام کے لیے اہم ترین اقدام تصور کیا جاتا ہے عبدالقیوم قریشی کے مطابق ان کی جانب سے جمع کرائے گئے حکم نامے اور عدالتی فیصلوں کے باوجود تاحال لعل مشائخ قبرستان کی حدبندی کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا محکمہ ریونیو سمیت متعلقہ اداروں کی طرف سے عدالتی احکامات کی تعمیل میں کوتاہی کے باعث قبرستان کی اراضی پر تجاوزات کا خدشہ برقرار ہے عدالتی فیصلوں کی موجودگی کے باوجود عملی پیش رفت نہ ہونا نہ صرف ناقابلِ فہم ہے بلکہ انتظامی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لعل مشائخ قبرستان قبرستان کی تجاوزات کے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔