data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251212-2-14
سکھر(نمائندہ جسارت ) لعل مشائخ قبرستان، کی حدبندی اور تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر سیاسی و سماجی اور کاروباری شخصیت عبدالقیوم قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کے مورخہ، 28 نومبر 2019 کو معزز اینٹی انکروچمنٹ ٹریبونل سکھر کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے کی نقل متعلقہ دفتر میں جمع کروائی گئی، جس میں لعل مشائخ قبرستان کی باقاعدہ حدبندی کروانے اور ممکنہ تجاوزات کے خاتمے سے متعلق واضح ہدایات دی گئی تھیں۔بعد ازاں معزز ہائی کورٹ آف سندھ، بینچ سکھر نے مورخہ 26 ،2021 کو آئینی درخواست نمبر D-99/2020 اور D-1294/2016 میں قبرستانوں کے لیے یکساں نوعیت کے احکامات صادر کیے تھے کہ تمام قبرستانوں سے تجاوزات کو فی الفور ختم کیا جائے اور ریونیو ریکارڈ کے مطابق باقاعدہ حدبندی عمل میں لائی جائے حدبندی کے بعد قبرستان کی چار دیواری تعمیر کی جائے یہ فیصلہ پورے پاکستان کے قبرستانوں میں تجاوزات کے روک تھام کے لیے اہم ترین اقدام تصور کیا جاتا ہے عبدالقیوم قریشی کے مطابق ان کی جانب سے جمع کرائے گئے حکم نامے اور عدالتی فیصلوں کے باوجود تاحال لعل مشائخ قبرستان کی حدبندی کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا محکمہ ریونیو سمیت متعلقہ اداروں کی طرف سے عدالتی احکامات کی تعمیل میں کوتاہی کے باعث قبرستان کی اراضی پر تجاوزات کا خدشہ برقرار ہے عدالتی فیصلوں کی موجودگی کے باوجود عملی پیش رفت نہ ہونا نہ صرف ناقابلِ فہم ہے بلکہ انتظامی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: لعل مشائخ قبرستان قبرستان کی تجاوزات کے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل