اسلام آباد سندھ کی تقسیم سے باز رہے ،عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-2-16
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی رہنما ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی، ایڈووکیٹ نجیب الرحمٰن مہیسر، پرہہ سومرو اور ایڈووکیٹ ایاز کلوئی نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد کو سندھ کو تقسیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں، ن لیگ کے رہنما سندھ توڑنے والی بیان بازی بند کریں۔ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر حملہ پاکستان کے وجود پر حملہ ہے۔ سندھ توڑنے کی ایم کیو ایم کے دہشتگردوں والی ایجنڈا کی ن لیگی رہنماؤں کی حمایت ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ سندھ کو توڑنے کا ایجنڈا ’’را‘‘ کا ایجنڈا ہے۔ را کے ایجنٹ سندھ میں نئے صوبے بنا کر ملک کو 71ء جیسے حالات کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ سندھ کو ٹکڑے کرنے کے بیانات دینے والے را کے ایجنٹ پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سندھ نے قراردادِ پاکستان منظور کرکے پاکستان کو وجود دیا، پاکستان نے سندھ کو وجود نہیں دیا۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ ن لیگ کے رہنما انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کو تقسیم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق خود کہتے ہیں کہ پنجاب کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں، لیکن سندھ سمیت دیگر تمام صوبوں میں انتظامی یونٹس بنائے جائیں۔ ریلوے کو تباہ و برباد کرنے والا خواجہ سعد رفیق انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کو توڑنے کی مہم چلا کر ملک کو تباہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ کو
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔