خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی سے دوری، کیا علی امین گنڈاپور پارٹی چھوڑ رہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے دیرینہ اور قابلِ اعتماد ساتھی سمجھے جانے والے اور عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک چلانے والے علی امین گنڈاپور نہ صرف پارٹی رہنماؤں سے دور ہیں بلکہ عمران خان کی رہائی کے لیے ہونے والے احتجاج اور جلسوں میں بھی نظر نہیں آ رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اندرونی اختلافات کا شکار، علی امین گنڈاپور کا پارٹی سے قطع تعلق، معاملہ کیا ہے؟
پارٹی جلسوں اور سیاسی منظرنامے سے مسلسل غائب رہنے کے باعث یہ خیال کیا جارہا ہے کہ علی امین گنڈاپور ممکنہ طور پر پارٹی چھوڑنے پر غور کررہے ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق وہ پی ٹی آئی کے اندر ہی ایک فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔
سابق وزیرِ اعلیٰ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور عمران خان اور پارٹی قیادت سے شدید ناراض ہیں، اور اسی وجہ سے وہ عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے۔ ان کی سرگرمیاں اس وقت صرف اپنے آبائی ضلع تک محدود ہیں اور پارٹی سے ان کا رابطہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق علی امین کے پاس اس وقت کوئی عہدہ نہیں ہے۔
کیا علی امین واقعی پی ٹی آئی چھوڑ رہے ہیں؟
اگرچہ سابق وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ابھی تک پارٹی کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا، لیکن پی ٹی آئی کے اندر ان کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔
پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے مطابق علی امین عمران خان کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں، لیکن جس طرح بغیر کسی مشاورت کے انہیں ایک وکیل کی جانب سے اعلان کے ذریعے وزارتِ اعلیٰ سے ہٹایا گیا، اسے وہ اپنی بے عزتی سمجھ رہے ہیں۔ ان کے دوبارہ پارٹی سرگرم ہونے کے امکانات بھی بہت کم بتائے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی میں کیا فرق ہے؟
رہنما کے مطابق جب عمران خان نے سہیل آفریدی کو وزیرِ اعلیٰ نامزد کیا تو پارٹی میں فکر تھی کہ کہیں علی امین گنڈاپور انکار نہ کریں یا کوئی فارورڈ بلاک نہ بنا دیں، لیکن اس وقت انہوں نے عمران خان کے فیصلے کو تسلیم کر لیا۔ تاہم اب بھی ان کے راستے جدا ہونے کا امکان موجود ہے۔
نوجوان صحافی محمد فہیم کے مطابق علی امین گنڈاپور کی سیاست عمران خان سے شروع ہوئی اور اب بھی عمران خان ہی ان کا سیاسی محور ہیں۔ ان کے مطابق فی الحال علی امین کے پارٹی چھوڑنے کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ ان کے پاس زیادہ آپشنز نہیں ہیں۔
فہیم کا کہنا ہے کہ علی امین ناراض ضرور ہیں اور جس طرح انہیں ہٹایا گیا وہ درست نہیں تھا، لیکن پارٹی چھوڑنا ان کے لیے اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوگا۔
کیا علی امین کو کوئی پیشکش ہوئی ہے؟
سابق وزیرِ اعلیٰ کے قریبی ساتھی کے مطابق علی امین کو ہٹانے سے ایک ہفتہ قبل عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی جس میں کابینہ میں ردوبدل کی اجازت دی گئی تھی، لیکن ہٹانے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد انہیں متعدد پیشکشیں ہوئیں، یہاں تک کہ وفاق کی جانب سے بھی رابطہ کر کے انہیں وزیرِ اعلیٰ برقرار رکھنے اور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
ساتھی کے مطابق علی امین نے متعدد پیش کشوں کے باوجود عمران خان سے وفاداری نبھائی اور کوئی پیش کش قبول نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت اعلیٰ سے ہٹنے کے بعد اب علی امین گنڈاپور کیا کررہے ہیں؟
محمد فہیم بھی اس موقف سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کی نامزدگی کچھ حلقوں کے لیے پریشانی کا باعث تھی، اور علی امین اگر چاہتے تو وزیرِ اعلیٰ رہ سکتے تھے، لیکن اب وقت گزر چکا ہے۔ ان کے مطابق علی امین اس وقت صرف موقع کے انتظار میں ہیں۔
سینئر صحافی عارف حیات بھی فہیم سے کچھ حد تک اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علی امین جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے بغیر ان کی سیاست مشکل ہے، کیونکہ جو لوگ پی ٹی آئی سے الگ ہوئے، ان کی سیاست تقریباً ختم ہو گئی۔
علی امین کے پاس کیا آپشنز ہیں؟
عارف حیات کے مطابق علی امین گنڈاپور سیاسی طور پر مضبوط ہو چکے ہیں اور حلقے میں ان کا ووٹ بینک موجود ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ پی ٹی آئی کا ووٹ عمران خان کا ہے، لیکن علی امین آزاد حیثیت میں بھی الیکشن لڑ سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ علی امین اس وقت اپنے حلقے میں بہت فعال ہیں اور اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ ووٹ اب ان کا اپنا ہونا چاہیے، عمران خان کا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے وزارت اعلیٰ سے کیوں نکالا؟ علی امین گنڈاپور نے خاموشی توڑ دی
عارف کے مطابق علی امین دیگر جماعتوں میں بھی جانے کی گنجائش رکھتے ہیں اور انہیں وہاں قبول بھی کیا جائے گا، لیکن شاید وہ خود ایسا نہ کریں۔ اس وقت ان کے پاس سب سے بہتر آپشن اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنا ہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علی امین نے عمران خان کے ذریعے ہی ڈی آئی خان میں جگہ بنائی اور جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کو سخت ٹف ٹائم دیا۔
علی امین کے ترجمان کیا کہتے ہیں؟
سابق وزیرِ اعلیٰ کے ترجمان فراز مغل علی امین کی پارٹی سے دوری کی خبروں کی تردید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق علی امین پارٹی میں سرگرم ہیں اور ان دنوں اپنے آبائی ضلع ڈی آئی خان میں موجود ہیں۔ 20 ماہ کی مصروفیت کے دوران وہ حلقے کو وقت نہیں دے سکے تھے اور اب اپنی توجہ وہاں مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق علی امین آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر عمران خان کی رہائی کے لیے کال دی گئی تو وہ سب سے آگے ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پی ٹی آئی خیبرپختونخوا سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی علی امین گنڈاپور عمران خان فارورڈ بلاک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی خیبرپختونخوا سابق وزیراعلی سہیل ا فریدی علی امین گنڈاپور فارورڈ بلاک عمران خان کی رہائی کے لیے کے مطابق علی امین علی امین گنڈاپور ہے کہ علی امین یہ بھی پڑھیں عمران خان کے ان کے مطابق علی امین کے پی ٹی آئی ہیں اور رہے ہیں کے پاس
پڑھیں:
گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی عمدہ کارکردگی کی بدولت پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کو پہلے ایک روزہ میچ میں 5 وکٹوں سے شکست دے کر 3 میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ویمنز ٹیم کا سری لنکا ٹور: ٹی20 سیریز نئے مقام پر منتقل، کس کا پلڑا بھاری؟
آئی سی سی ویمنز چیمپیئن شپ 2025-29 کے تحت کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تاہم پاکستانی بولرز کی نپی تلی بولنگ کے باعث مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 210 رنز ہی بنا سکی۔
سری لنکا کی جانب سے اوپنرز وشمی گوناتنے اور کپتان چماری اتھاپتھو نے ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا اور ابتدائی 5 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 31 رنز بنائے۔ دونوں نے پہلی وکٹ کے لیے نصف سینچری شراکت بھی قائم کی جو سری لنکا کی جانب سے ون ڈے کرکٹ میں کسی بھی اوپننگ جوڑی کی 5ویں ففٹی پارٹنرشپ تھی۔
پاکستانی اسپنرز کے اٹیک پر آنے کے بعد سری لنکن بیٹنگ کی رفتار سست پڑ گئی۔ نشرہ سندھو نے پہلے وشمی گوناتنے کو آؤٹ کیا جبکہ بعد ازاں کپتان چماری اتھاپتھو کو بھی بولڈ کر دیا۔
اتھاپتھو اور حسینی پریرا نے دوسری وکٹ کے لیے 53 رنز جوڑے تاہم اس کے بعد پاکستانی بولرز نے میچ پر گرفت مضبوط کر لی۔ نیلکشیکا سلوا اور کویشا دلہاری کے درمیان 5ویں وکٹ کے لیے 42 رنز کی شراکت کے علاوہ کوئی بڑی پارٹنرشپ نہ بن سکی جبکہ آخری 7 اوورز میں سری لنکا نے 32 رنز کے عوض 5 وکٹیں گنوا دیں۔
مزید پڑھیے: فاطمہ ثنا نے تاریخ رقم کر دی، ویمنز دی ہنڈرڈ کھیلنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر بن گئیں
پاکستان کی جانب سے نشرہ سندھو نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 42 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
گل فیروزہ کی مسلسل چوتھی نصف سینچری211 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے پراعتماد آغاز کیا۔ اوپنر گل فیروزہ نے ایک مرتبہ پھر عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل چوتھی ون ڈے نصف سینچری اسکور کی۔
انہوں نے ابتدائی پاور پلے میں جارحانہ انداز اپنایا اور صدف شمس کے ساتھ پہلی وکٹ کے لیے 58 رنز کی شراکت قائم کی۔
Pakistan women beat Sri Lanka women by 5 wickets in the first One-Day International of the three-match series in Hambantota today.@TheRealPCBMedia @TheRealPCB #News #RadioPakistan https://t.co/5cesGghrAK
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) July 23, 2026
بعد ازاں گل فیروزہ اور سدرہ امین نے دوسری وکٹ کے لیے 90 رنز کا اہم اضافہ کیا جس نے پاکستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی۔
مزید پڑھیں: ویمنز ورلڈکپ فوٹو شوٹ میں فاطمہ ثنا اور جے شاہ کا مصافحہ توجہ کا مرکز بن گیا
گل فیروزہ نے 77 گیندوں پر 78 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ صدف امین نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 94 گیندوں پر 57 رنز بنائے۔
پاکستان نے مطلوبہ ہدف 45 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا اور یوں سیریز کا آغاز کامیابی سے کیا۔
آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ میں دوسری پوزیشنیہ پاکستان ویمنز ٹیم کی مسلسل 5ویں ون ڈے فتح ہے جس کے بعد قومی ٹیم آئی سی سی ویمنز چیمپیئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کا دوسرا ایک روزہ میچ 25 جولائی کو ہمبنٹوٹا میں ہی کھیلا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ویمنز بمقابلہ سری لنکا پاکستان ویمنز ٹیم کی فتح سدرہ امین صدف شمس فاطمہ ثنا گل فیروزہ