برطانیہ کے میوزیم سے 600 قیمتی نوادرات چوری، ہندوستانی تاریخی اشیا بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
برطانیہ کے شہر برسٹل میں واقع میوزیم سے 600 سے زائد قیمتی نوادرات کی بڑی چوری نے حکام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جن میں برصغیر کے دورِ استعمار کی متعدد بھارتی اشیا بھی شامل ہیں۔ پولیس نے 2 ماہ بعد واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرتے ہوئے عوام سے مدد کی اپیل کی ہے۔
Indian Artefacts Among 600 "High Value" Items Stolen From UK Museumhttps://t.
— NDTV WORLD (@NDTVWORLD) December 12, 2025
برطانیہ کے شہر برسٹل میں واقع برٹش ایمپائر اینڈ کامن ویلتھ کلیکشن سے 600 سے زائد قیمتی نوادرات چوری کر لیے گئے جن میں بھارت سے تعلق رکھنے والی اہم تاریخی اشیا بھی شامل ہیں۔ ایون اینڈ سمرسیٹ پولیس کے مطابق یہ واردات 25 ستمبر کو رات 1 سے 2 بجے کے درمیان پیش آئی۔
یہ بھی پڑھیں:لوور میوزیم میں پانی کا رساؤ: مصری نوادرات کی سینکڑوں نایاب کتابیں متاثر
پولیس نے 4 مشتبہ گورے مردوں کی دھندلی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرتے ہوئے عوام سے ان افراد کی شناخت میں مدد کی درخواست کی ہے۔
پولیس کے بیان میں بتایا گیا کہ چوری شدہ اشیا میں ایک ہاتھی دانت سے بنا بدھ مجسمہ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک افسر کی بیلٹ بکل بھی شامل ہے۔ تفتیشی افسر ڈین برگن نے کہا کہ یہ چوری ہمارے شہر کے لیے ایک بڑا نقصان ہے کیونکہ ان میں متعدد اشیا ثقافتی و تاریخی اہمیت رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پیرس: میوزیم سے چوری کے بعد بچ رہنے والے جواہرات بینک آف فرانس منتقل
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نوادرات مختلف عطیات کا حصہ تھے اور برطانوی تاریخ کے پیچیدہ پہلوؤں کو سمجھنے میں معاون تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش میں سی سی ٹی وی شواہد، فرانزک تحقیقات اور متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ شامل ہے۔
پولیس کی جانب سے یہ اپیل 2 ماہ بعد کیوں جاری کی گئی، اس بارے میں حکام نے کوئی وضاحت نہیں دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برسٹل برطانیہ لندن میوزیم نوادرات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برسٹل برطانیہ لندن میوزیم نوادرات
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔