فیض حمید بانی پی ٹی آئی کیخلاف وعدہ معاف گواہ بنیں گے: فیصل واوڈا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ فیض حمید بانی پی ٹی آئی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنیں گے۔سینیٹر فیصل واوڈا نےایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلنا خارج از امکان نہیں۔فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ فیض حمید نو مئی کے خلاف گواہی اور ثبوت دیں گے اور یہ مقدمہ اب بانی پی ٹی آئی کی طرف جائے گا، شواہد آگئے تو بانی پی ٹی آئی کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چل سکتا ہے۔سینیٹر فیصل واوڈا نے فیض حمید کی سزا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ 9 مئی سے ایک سال پہلے مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا تھا اور میں اسی چیز سے روک رہا تھا کہ اس جگہ پر نہ جائیں کہ واپسی نہ ہو، یہ بڑا واضح ہے کہ ملک دشمنی، ریاست دشمنی، اداروں سے دشمنی، جمہوری دشمنی، پاکستان کے جھنڈے اور شہیدوں سے دشمنی پر 14 سال قید یا سزائے موت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی پیرا میٹر میں آگے جاتے ہوئے فیض حمید اب عمران خان کے خلاف شواہد کے ساتھ گواہی دینے جا رہے ہیں کہ بطور وزیراعظم ان کو کیا احکامات ملتے رہے ہیں اور خاص طور پر 9 مئی، اور 9 مئی کے زمرے میں بھی عمران خان اس شکنجے میں آتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور تقریباً آگئے ہیں۔فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ وہ شواہد جب آئیں گے اور پی ٹی آئی کے وہ رہنما جو سائیڈ ہوگئے لیکن اس وقت ملوث تھے، جو جیل میں ہیں ان کو بھی لایا جائے گا اور جنہوں نے اس وقت انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر ملک دشمنی کے لئے قلم کا استعمال کیا وہ بھی کٹہرے میں آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ شکنجہ یہاں رکے گا نہیں یہ ابتدا ہے، فیض حمید کی 9 مئی کیسز میں ملوث ہونے سے متعلق سوال پر سینیٹر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے سب سے پہلا ٹیسٹ ٹرائل، جس سے منی دھرنا کہتے ہیں، وہاں کے کور کمانڈر فیض حمید تھے، اندر کی تنصیبات کی معلومات فیض حمید کی سہولت کاری تھی اور جب عمران خان اتر گئے تھے اور دھرنا جب شروع ہوا تھا، ارشد شریف کا قتل ہوا تھا تو باجوہ صاحب چیف تھے اور فیض حمید باوردی موجود تھے۔فیصل واوڈا نے فیض حمید کی سزا سے متعلق کہا کہ ایک باوردی سزا ہے اور ایک بغیر وردی کے سزا ہے، یہ بڑی واضح ہے یہ سی ڈی ایف فیلڈ مارشل کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے سے 10 گنا بڑے دشمن سے جنگ جیتی ہے بلکہ اپنے ادارے سے ایک مثال بھی شروع کر دی ہے اور اب یہ شکنجہ وہاں جاتا ہوا نظر آرہا ہے جہاں سے میں روک رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ جو 14 سال کی سزا ہوئی ہے اس میں کمی نہیں ہوگی لیکن جو ٹرائل آگے چل رہا ہے اس کے اندر وہ گواہی کے ساتھ شواہد بھی دیں گے، جب شواہد دیں گے تو وہ شواہد ایسے ہوں گے کہ قوم جب کسی سے دل سے پیار کرتی ہے تو شدت سے کرتی ہے اور نفرت بھی شدت سے کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس شکنجے سے اللہ تعالیٰ تو نکال سکتا ہے لیکن قانونی، دنیاوی اور انسانی طور پر تو مجھے واپسی نظر نہیں آرہی ہے، میں واضح ہوں کہ اب اس میں حیل و حجت یا اینالیسز ممکن نہیں ہے اور یہ نوشتہ دیوار ہے۔فیصل واڈا نے کہا کہ فیض حمید کے تعلق کے اندر 2017 سے جو الزامات اور ڈراما چلتا آرہا ہے کرپشن سے لے کر ریاست کو نقصان پہنچانا، فوج کو نقصان پہنچانا، عدلیہ، میڈیا، جمہوریت اور سیاست دان اور سب کو نقصان پہنچانا یہ بڑا وسیع معاملہ ہے اور ممکنہ طور پر اس کے اندر نمبر ٹو پوزیشن آئے گی وہ شواہد اور گواہی کے بعد سیدھے سب سے پہلا نمبر پی ٹی آئی اور عمران خان کا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی فیصل واوڈا نے فیض حمید کی ئی کے خلاف نے کہا کہ انہوں نے ہے اور
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔