Daily Mumtaz:
2026-06-03@07:36:38 GMT
برطانیہ: آئیلٹس فیل ہزاروں تارکینِ وطن کو ویزے جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
IELTS میں 80 ہزار امیدواروں کو غلط نتائج ملے، امتحان میں فیل ہزاروں تارکین وطن کو ویزے دیدیئے گئے۔
برطانوی اخبار کے مطابق بین الاقوامی انگلش لینگویج ٹیسٹنگ سسٹم میں 80 ہزار امیدواروں کو غلط نتائج ملے۔
دوسری جانب ان امتحانات کے انعقاد کے دوران چین، بنگلادیش، ویتنام میں دھوکا دہی کےشواہد پائے گئے ہیں۔
اس معاملے پر برطانوی اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی نے غلط نتائج والے افراد کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے ردِعمل میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر تحقیقات کی جارہی ہیں اور مستقبل میں مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
واضح کرتے چلیں کہ دنیا بھر میں ہر سال 3 اعشاریہ 6 ملین لوگ آئیلٹس کا امتحان دیتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔