پولیس تشدد سے دل برداشتہ شخص پراسرار طور پر جھلس گیا، اہلکار اسپتال چھوڑ کر غائب
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
راولپنڈی:
پولیس تشدد سے دل برداشتہ شخص پراسرار طور پر جھلس گیا ، جسے اہل کار مبینہ طور پر اسپتال چھوڑ کر غائب ہو گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی کے تھانہ ایئرپورٹ کی پولیس چوکی حمیداں پر انسانیت سوز واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر پولیس تشدد و بدسلوکی سے دل برداشتہ شخص پراسرار طور آگ سے جھلس گیا جب کہ شدید زخمی شخص کو پولیس اہلکار پمز اسپتال چھوڑ کر غائب ہوگئے ۔
متاثرہ شخص کے بھائی نے پولیس ایمرجنسی ون فائیو پر کال کردی ۔
اطلاعات کے مطابق ترنول کے رہائشی محمد عامر نے ون فائیو پر بتایاکہ 45 سالہ بھائی امجد محمود پراپرٹی ڈیلر ہے ، جسے سب انسپکٹر نعیم احمد تھانہ ایئرپورٹ کی چوکی حمیداں لے کر گیا ۔ پولیس آفیسر نے کسی قسم کی وجہ نہیں بتائی اور بھائی کو پولیس عملے نے تشدد کا نشانہ بنایا ، جہاں بھائی نے موٹر سائیکل سے پیڑول نکال کر خود پر چھڑک لیا اور خود کو آگ لگا لی ۔
بعد ازاں نامعلوم پولیس آفیسر بھائی کو، جو کہ جلی ہوئی حالت میں تھا، پمز اسپتال چھوڑ گیا ۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ہوا ہے۔ فریقین کو دریافت کے لیے طلب کیاگیا تھا، جہاں مذکورہ شخص نے مبینہ خودکشی کی کوشش کی جب کہ تھانہ ائیرپورٹ کے ایس ایچ او ابراہیم بلوچ رابطے پر میسر نہ ہوسکے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسپتال چھوڑ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔