ٹریفک پولیس نے شہر میںخوف کی فضا پیداکردی ہے
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251210-11-8
فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے ضلعی امیرپروفیسرمحبوب الزماںبٹ ،جنرل سیکرٹری یاسرکھاراایڈووکیٹ نے کہاہے کہ ٹریفک پولیس نے شہر میںخوف کی فضا پیداکردی ہے ، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد کئے گئے بھاری جرمانوں کی پالیسی عوام کیلئے عذاب بن چکی ہے۔ ٹریفک نظام کی بہتری کے نام پر عوام پر دہشت مسلط کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد ٹریفک اصلاحات نہیں بلکہ خزانے بھرنا ہے،۔ ٹریفک وارڈنزسارادن ناکے لگا کر عوام کو ہراساں کررہے ہیں،ٹریفک وارڈنزکو جرمانے پورے کرنے کا ٹارگٹ دینا قانون کو کاروبار بنا دینے کے مترادف ہے۔ہراہلکار کوروازانہ تیس چالان کا ٹارگٹ دیناصوبائی حکومت کی عوام دشمنی ہے۔انہوںنے کہاکہ شہریوںکی طرف سے ٹریفک قوانین کی پابندی اور نظم و ضبط ضروری ہے مگر سزا کا بوجھ عوام کی قوتِ خرید کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ عوام کے مسائل میںاضافہ نہ ہو۔موجودہ معاشی حالات میں اس قدر بھاری چالان عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک اہلکاروںنے سارا دن شہر میں چلنے والی بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی بجائے سارا زور صوبائی حکومت طرف سے ملنے والے مطلوبہ ٹارگٹ پورا کرنے کیلئے شہریوں کے بلاوجہ چالان کرنے شروع کر رکھے ہیں۔ پنجاب حکومت نے اپنے خسارے کا سارا بوجھ شہریوں پر ڈال دیا ہے جس کے نتیجہ میں ہر چوک میں کھڑے وارڈنز ٹریفک کنٹرول کرنے کی بجائے چالان پر چالان کئے جا رہے ہیں۔ انہوںنے صوبائی حکومت سے مجوزہ جرمانوںکی شرح واپس لینے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے ٹریفک آگاہی مہمات کو فروغ دیا جائے تاکہ جرمانوں کے بجائے عوامی شعور کے ذریعے بہتری لائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔