پاکستان میں کون سی سولر ٹیکنالوجی سب سے کارآمد؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پاکستان میں بجلی کے مسلسل بڑھتے ہوئے نرخ اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کے باعث عوام کی بڑی تعداد متبادل ذرائع توانائی، خصوصاً سولر سسٹمز، کی طرف تیزی سے رجوع کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا درجہ حرارت میں کمی سولر پینلز کی قیمتیں نیچے لے آئی؟
یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں سولر انرجی سسٹمز کی مانگ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
گھریلو صارفین سے لے کر تجارتی شعبے تک، زیادہ سے زیادہ لوگ نسبتاً کم لاگت اور طویل مدتی فائدہ دینے والی شمسی توانائی کی طرف تیزی سے رجوع کر رہے ہیں۔
مارکیٹ میں دستیاب سولر پینلز کی اقساممقامی مارکیٹ میں اس وقت مختلف ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے متعدد اقسام کے سولر پینل دستیاب ہیں، جن میں مونو کرسٹل، پولی کرسٹل اور تنکی تہہ (تھن فلم) ٹیکنالوجی کے پینل شامل ہیں۔
تاہم صارفین کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے موسم، بجٹ اور استعمال کے حساب سے ان میں سے بہترین انتخاب کون سا ثابت ہو سکتا ہے۔
این ٹائپ بائی فیشل پینلز کی مقبولیتسولر انرجی ایکسپرٹ شرجیل احمد سلہری کے مطابق پاکستانی مارکیٹ میں این ٹائپ بائی فیشل سولر پینلز کی بہت زیادہ بھرمار ہے۔ یعنی مارکیٹ میں زیادہ تر کمپنیاں اور ڈسٹری بیوٹرز اسی ٹیکنالوجی کے پینلز فروخت کر رہے ہیں۔ یہ پینلز عام طور پر 585 واٹ سے لے کر 645 واٹ تک کی مختلف ریٹنگز میں دستیاب ہیں، اور زیادہ تر ٹئیر ون برانڈز ان ہی ماڈلز پر کام کر رہے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس وقت سب سے زیادہ مانگ والی اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان میں سولر پینل کی مینوفیکچرنگ ممکن ہے؟
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ تمام بڑے ماڈلز سی–سائی (کرِسٹلائن سِلِکون) ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، جو جدید سولر انڈسٹری میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا معیاری طریقہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں آنے والے این ٹائپ پینل مضبوط، بہتر معیار اور زیادہ کارکردگی پر فوکس کرتے ہیں۔
کون سی ٹیکنالوجی بہترین؟سولر انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے محمد گلناز کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بہترین سولر ٹیکنالوجی این ٹائپ بائی فیشل ہے، خاص طور پر لانگی کمپنی کے پینل کارکردگی کے لحاظ سے زیادہ مضبوط اور قابلِ اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔ ان پینلز کی افادیت زیادہ ہوتی ہے اور ان کی اوسط عمر تقریباً 30 سال بتائی جاتی ہے، اس لیے یہ لمبے عرصے کی سرمایہ کاری کے لیے بہتر ہیں۔
ان کے مطابق مارکیٹ میں اس وقت 3 بنیادی سولر ٹیکنالوجیز استعمال ہو رہی ہیں، پہلی پی ٹائپ ہے، جو عام اور کم قیمت ٹیکنالوجی ہے۔ اس میں بوران ملے سلکان کا استعمال ہوتا ہے، لیکن کارکردگی اور لائف اسپین کے لحاظ سے یہ این ٹائپ جتنی مضبوط نہیں ہوتی۔
دوسری ٹیکنالوجی این ٹائپ ہے جو جدید، طاقتور اور زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ اس میں فاسفورس ملا سلکان استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ روشنی کو بہتر انداز میں بجلی میں تبدیل کرتا ہے اور اس میں لائٹ اِنڈیوسڈ ڈیگریڈیشن بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اس کی کارکردگی عموماً 25.
یہ بھی پڑھیں: سولر سسٹمز کی پیداوار گرڈ کی طلب سے تجاوز کرجائے گی، وزارت موسمیاتی تبدیلی
تیسری اور سب سے جدید ٹیکنالوجی اے بی سی (آل بیک کانٹیکٹ) ہے۔ اس میں تمام کانٹیکٹس پینل کے پیچھے ہوتے ہیں، جس سے سامنے والی سطح مکمل طور پر صاف رہتی ہے اور روشنی زیادہ مقدار میں جذب ہوتی ہے۔ اس کی ظاہری شکل بھی خوبصورت ہوتی ہے کیونکہ سامنے کوئی لائنیں یا بس بار نظر نہیں آتے۔ یہ کم گرمی پکڑتی ہے اور زیادہ کارکردگی رکھتی ہے۔ پاکستان میں اس ٹیکنالوجی کا فی الحال صرف آئی کو نامی ایک ہی برانڈ دستیاب ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی این ٹائپ بائی فیشل ہے، اور اس میں لانگی کے پینلز کو بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ معیار اور کارکردگی دونوں میں سبقت رکھتے ہیں۔
صارفین کے مطابق کیا بہتر ہے؟توانائی کے ماہر انجینئر نور بادشاہ کے مطابق مونو کرسٹل پینل اپنی اعلیٰ کارکردگی، کم روشنی میں بہتر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور لمبی عمر کی وجہ سے پاکستان بھر میں سب سے مقبول تصور کیے جا رہے ہیں۔ یہ پینل ایک ہی سِلِکون کرسٹل سے تیار کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی افادیت 18 سے 22 فیصد تک ہوتی ہے اور کم جگہ میں زیادہ توانائی دیتے ہیں، اس لیے شہری علاقوں میں ان کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب پولی کرسٹل پینل، جو کہ سلیکون کے کئی ٹکڑوں کو ملا کر بنائے جاتے ہیں، کم قیمت ہونے کے باعث دیہی علاقوں اور بجٹ محدود رکھنے والے صارفین میں اب بھی خاصے مقبول ہیں، اگرچہ ان کی افادیت مونو پینلز کے مقابلے میں کم یعنی تقریباً 15 سے 17 فیصد ہوتی ہے۔
تنکی تہہ والے پینل وزن میں ہلکے اور ڈیزائن میں لچکدار ضرور ہیں، مگر ان کی کم افادیت اور زیادہ جگہ کی ضرورت کے باعث یہ گھریلو صارفین میں کم جبکہ صنعتی منصوبوں میں قدرے زیادہ استعمال ہورہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان پولی کرسٹل پین تنکی تہہ والے پینل توانائی سولر پینل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پولی کرسٹل پین توانائی سولر پینل ٹائپ بائی فیشل پاکستان میں مارکیٹ میں سولر پینل اور زیادہ کے مطابق سے زیادہ پینلز کی ہوتی ہے کے پینل رہے ہیں یہ بھی ہے اور
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔