Jasarat News:
2026-07-24@10:12:28 GMT

پاکستان نے ایشیا پیسیفک میں 7ایوارڈ جیت لیے

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس ڈیسک) تائیوان میں منعقدہ باوقار اپیکٹا (APICTA) ایوارڈز 2025 میں پاشا (P@SHA) کی قیادت میں پاکستانی وفد نے سات ایوارڈز جیت لیے۔ چیئرمین پاشا، سجاد سید نے کہایہ 7بین الاقوامی ایوارڈز پاکستان کے انوویٹرز (innovators) کی غیر معمولی صلاحیت، تخلیقی صلاحیتوں اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ APICTA 2025 نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی آئی سی ٹی انڈسٹری نہ صرف عالمی سطح پر حصہ لے رہی ہے بلکہ ہم مقابلہ کر رہے ہیں اور جیت رہے ہیں۔ پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) نے تائیوان کے شہر کائوسیونگ (Kaohsiung) میں منعقدہ ایشیا پیسیفک آئی سی ٹی الائنس (APICTA) ایوارڈز 2025 میں پاکستان کے اب تک کے سب سے بڑے 55 رکنی وفد کی قیادت کی۔ اس وفد میں 27 ٹیکنالوجی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس اور طلباء کی ٹیمیں شامل تھیں۔جس میں 104 شاندار پروجیکٹس کو سراہا گیا تھا، جن میں 37 ونرز، 58 رنرز اپ اور 9 خصوصی تعریفی ایوارڈز شامل تھے۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اس ایونٹ کا افتتاح ڈپٹی منسٹر آف ڈیجیٹل افیئرز (MODA) ہو یی شیو (Hou Yi-Hsiu) اور کائوسیونگ شہر کے میئر چن چی مائی (Chen Chi-Mai) نے کیا، جبکہ خطے کے 100 سے زائد آئی سی ٹی لیڈرز نے شرکت کی۔ پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ ملک کے آئی سی ٹی (ICT) ایکو سسٹم کی بڑھتی ہوئی طاقت اور عالمی مسابقت کا ثبوت ہے۔ پاشا نے کہا کہ میں ہر ٹیم، مینٹور اور ادارے کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس تاریخی کامیابی کو ممکن بنایا۔پاشا (P@SHA) حکومت پاکستان، ایچ بی ایل (HBL)، ججز، مینٹورز اور ان تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے وفد کی شرکت میں تعاون کیا۔ ایسوسی ایشن جدت کی پرورش، بین الاقوامی تعاون کے فروغ اور ایشیا پیسیفک ریجن میں پاکستان کو ایک معروف ڈیجیٹل اکانومی کے طور پر منوانے کے لیے پرعزم ہے۔ونر (فاتح)، پیپلز چوائس ایوارڈز اور ٹرشری اسٹوڈنٹس: ‘جیو جیما’ (GeoGemma)، گوگل ریسرچ از انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی، اسلام آباد۔ونر (فاتح)، پبلک سیکٹر اینڈ گورنمنٹ (گورنمنٹ اینڈ سٹیزن سروسز): ‘دستک’ (Dastak) از خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ (KPITB)۔فرسٹ رنر اپ، سینئر اسٹوڈنٹس: ‘سینس گارڈ’ (Sense Guard) از فضائیہ انٹر کالج جناح کیمپ۔فرسٹ رنر اپ، ٹرشری اسٹوڈنٹس (انوویٹو سلوشنز): ‘اوسٹیو اسکرین’ (Osteoscreen) از نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)۔فرسٹ رنر اپ، بزنس سروسز (ICT سروسز سلوشنز): ‘الف’ (ALEF) از ڈائنا سِس نیٹ ورکس (Dynasys Networks)۔فرسٹ رنر اپ، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT): ‘الف’ (ALEF) از ڈائنا سِس نیٹ ورکس (Dynasys Networks)۔فرسٹ رنر اپ، کنزیومر سروسز: ‘فیس آف’ (Faceoff) از یونی کرو سلوشنز (Unikrew Solutions)۔

کامرس ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فرسٹ رنر اپ ا ئی سی ٹی

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان نے چین کے لئے نیا سفیر نامزد کردیا
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم