میرے بیان پر کچھ لوگوں نے تیلی دکھا کر آگ بھڑکائی، ندا یاسر
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ اور میزبان ندا یاسر نے حال ہی میں تنازع بننے والے اپنے بیان کو اچھالنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خیر میں نے اپنے بیان پر معذرت کرلی اب کسی کو دل برا نہیں رکھنا چاہیے۔
کراچی میں منعقدہ 24ویں لکس اسٹائل ایوارڈ کی تقریب میں شرکت کے وقت صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے ندا یاسر نے سب سے پہلے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے جو لباس پہنا ہے وہ کسی ڈیزائنر کا نہیں بلکہ خود بنایا ہے۔
ندا یاسر نے اپنے حالیہ تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اتنے سال سے شوز کررہی ہوں، اپنے ساتھ پیش آئے واقعات ویسے ہی سناتی ہوں جیسے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر سناتے ہیں، وہ بھی اسی طرح کی باتیں چل رہی تھیں مگر کچھ لوگوں نے تیلی لگا کر آگ لگا دی۔
View this post on InstagramA post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی ہے اور اب کسی کو بھی مجھ سے اپنا دل میلا نہیں رکھنا چاہیے، مگر ایک بات ضرور ہے کہ ایسے وقت میں آپ کے دوستوں اور دشمنوں کا معلوم ہوجاتا ہے۔
یاسر حسین کے ساتھ فلم بنانے کے سوال پر ندا یاسر نے کہا کہ ابھی میں اور یاسر الگ الگ کام کر کے پیسے جمع کررہے ہیں جب بہت سارے پیسے ہوجائیں گے تو پھر فلم بنائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ندا یاسر نے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔