Express News:
2026-06-02@23:48:21 GMT

دریائے سواں،قدیم ترین تہذیبوں کا گہوارہ

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

راولپنڈی کے تقریباً جنوب اور چکوال شہر سے کم و بیش چالیس کلومیٹر شمال مغرب میں اس علاقے کا واحد دریا،دریائے سواں بہتا ہے۔ یہ دریا مری کے قریب سے ہوتا ہوا ، ضلع راولپنڈی کو عبور کر کے ضلع چکوال میں بہتا ہوا ضلع تلہ گنگ میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر ضلع اٹک کے قصبے تراپ کے قریب سے ہوتا ہوا عظیم دریائے سندھ میں مدغم ہو کر اپنی ہستی مٹا دیتا ہے۔ دریائے سواں دراصل دریائے سندھ کے معاون دریاؤں میں سے ایک دریا ہے۔یہ دریا،دریائے جہلم اور دریائے سندھ کے درمیان پھیلے وسیع و عریض علاقے کا واحد دریا ہے۔

اسی علاقے میں ٹیکسلا کی عظیم اور قدیم بستی ابھی تک آباد ہے۔ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے درمیانی علاقے کو مغلیہ عہد میں سندھ ساگر کا علاقہ کہا جاتا تھا۔دریائے سواں بارانی علاقوں یعنی راولپنڈی،اٹک اور چکوال کا اکیلا دریا ہے۔اس کا بہت تھوڑا سا حصہ ضلع میانوالی کے بالائی علاقوں سے بھی گزرتا ہے ۔میانوالی کے یہ علاقے بھی بارانی علاقے ہی شمار ہوتے ہیں جن کے بعد دریائے سندھ اور اس کے ارد گرد پھیلے علاقے جنوبی پنجاب سے لے کر بحیرہ ء عرب تک جاتے ہیں۔

دریائے سواں اپنا250کلومیٹر لمبا سفر ملکہء کوہسار مری کے قریب پتریاٹا کے مقام سے شروع کرتا ہے اور چھوٹا سا گاؤں بن وہ پہلا گاؤں ہے جو اس کے کنارے آباد ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد کو پانی فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے سملی ڈیم کو پانی فراہم کرنے کے بعد یہ اپنے بچے کھچے پانی کو لے کر قلعہ پھروالہ کے قریب اونچی پہاڑیوں کو بظاہر کاٹتا ہوا اپنا راستہ بناتا ہے۔اس مقام کو سواں کٹ کہتے ہیں۔ ماہرینِ ارضیات کی ایک رائے یہ ہے کہ کوئی بھی دریا یا ندی نالہ پہاڑیوں کو نہیں کاٹ سکتا،چنانچہ خیال کیا جاتا ہے کہ دریائے سواں پہلے سے یہاں بہتا تھا جس کے بعد اس کی گزرگاہ کے ارد گرد زمین سے پہاڑیاں نمودار ہوئیں۔

اگر یہ بات مان لی جائے تو قرار پائے گا کہ دریائے سواں ارد گرد کی پہاڑیوں سے بھی قدیم ہے، گویا اس کو بہتے کئی ملین سال گزر چکے ہیں۔سہالہ کے قریب کاک پل تک پہنچتے پہنچتے دریائے سواں میں کئی چھوٹی بڑی ندیاں اور نالے آ کر اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔

سہالہ انڈسٹریل اسٹیٹ صنعتی فضلہ اس میں ڈالتی ہے۔صنعتی فضلے کے علاوہ راولپنڈی شہر کا سیوریج کا پانی اور نالہ لئی میں بہتا اسلام آباد اور شمالی راولپنڈی کا سیوریج ملا گندا پانی بھی اس میں شامل ہوتا ہے۔ماضی میں ماہی گیر جال ڈال کر اس میں سے مچھلیاں پکڑتے تھے۔چند دہائیاں پہلے تک اس کے کنارے چاندنی رات میں سفید ریت جگمگاتی عجب منظر پیش کرتی تھی۔اب اس قدیم تہذیب کے گہوارے کا پانی از حد آلودہ ہو چکا ہے۔اس دریا میںاب بھی خال خال چینی رہو،سانپ مچھلی، بام مچھلی، کیٹ فش اور مہاشیر موجود ہے۔اس کے ساتھ مختلف انواع کے کچھوے بھی ملتے ہیں مگر آلودہ پانی کی وجہ سے یہ سب معدومی کے شدید خطرے سے دوچار ہیں ۔کنگ فشر نامی پرندہ کبھی کبھی اس دریا میں شکار کرتا نظر آتا ہے۔

دریائے سواں کے ارد گرد تاحدِ نگاہ پھیلے ناہموار سطح مرتفعی علاقوں کی وجہ سے اس دریا کا پانی زرعی زمینوں کی سیرابی کے لیے استعمال کرنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کوئی نہر نکالی جا سکتی ہے تاہم زمینوں کی سیرابی کا یہ مقصد اسمال ڈیم بنا کر حاصل کیا جا سکتاہے اور کسی حد تک کیا بھی جا رہا ہے۔دریائے سواں کا 250کلومیٹر لمبا سفر کالا باغ ڈیم کے لیے مختص کیے گئے پیر پھلائی کے علاقے کے قریب ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں سے یہ دریا دریائے سندھ میں جا گرتا ہے۔

دریائے سواں کا بہاؤ کم سے کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اس کا کیچ منٹ ایریا پھیلتی آبادیوں کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ دریا نزع کے عالم میں ہے۔اس کے کناروں پرقبل از تاریخ کے شواہد ملتے ہیں یہ بلاشبہ ایک قدیم تہذیب اور کلچر کا مرکز رہا ہے مگر اب یہاں کچھ نہیں اور یہ صرف جدید تہذیب کا کچرا بہانے کے کام آتا ہے۔انسانی زندگی کے پاکستان میں قدیم ترین آثار دریائے سواںکے ارد گرد ملے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ دریائے سواں کے آس پاس پتھر کے دور کے غالباً پانچ لاکھ سال پرانے انسانی فاسلز ملتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف خطۂ پوٹھوہار بلکہ قدیم ترین انسان بھی اسی علاقے میں رہ رہے تھے ۔اب تک پاکستان میں ملنے والے پتھر کے اوزار راولپنڈی میں مورگاہ کے قریب سے ملے ہیں۔تاریخ دانوں کا یہ ماننا ہے کہ دنیا کا قدیم ترین انسان جس نے مل جل کر رہنا شروع کیا وہ دریائے سواں کے کناروں پر بھی آباد رہا ہے اور انھی انسانوں نے وہ کلچر پروان چڑھایا جسے آج ہم وادیٗ سواں کی تہذیب و ثقافت کہتے ہیں۔سواں کے علاقوں سے عظیم الجثہ جانوروں کے فاسل بھی ملے ہیں۔

سواں، عظیم دریائے سندھ کا معاون دریا ہے۔ گاؤں اوڈھروال ایسا مقام ہے جہاں سے پانی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔یہاں سے ضلع کے مشرقی حصے کا پانی مختلف ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریائے جہلم میں جا گرتا ہے جب کہ مغربی حصوں کا پانی مختلف ندی نالوں میں بہتا دریائے سواںمیں شامل ہو جاتا ہے اور پھر یہ کالا باغ کے قریب دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔دریائے سواں کی ایک خصوصیت اس کا دھوکے باز ہونا ہے۔ ایک رات کو بالکل سوکھا ہوتا ہے جب کہ اگلی صبح کو اس میں اتنا زیادہ پانی ہوتا ہے کہ بغیر کسی سہارے اس کو پار کرنا مشکل ہوتا ہے۔نکہ کہوٹ ،تلہ گنگ کے پاس سے گزرنے والے بہت بڑے نالے گمبھیر کا پانی بھی اسی میں گرتا ہے۔چکوال میںدریائے سواں کا سب سے دلکش نظارہ قصبہ نیلہ کے بلند ترین حصے سے کیا جا سکتا ہے۔

اس ٹیلے پر پولیس ریسٹ ہاؤس اور پولیس اسٹیشن کی عمارت بھی ہے،جو 1892میں تعمیر کی گئی تھیں۔کچھ سال پہلے تک سواں کے پانیوں سے سونا بھی تلاش کیا جاتا تھا۔کبھی اس دریا کے ذریعے تجارت بھی ہوتی تھی۔اس دریا کے وجود کو اب بوجوہ خطرہ لاحق ہے۔یہ دریا سکڑتا جا رہا ہے۔قدیم ترین تہذیبوں کا یہ گہوارہ شاید جلد خشک ہو کر معدوم ہو جائے۔عوام اور مقتدر حلقوں سے درخواست ہے کہ اسے بچانے کی بھرپور کوشش کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دریائے سواں دریائے سندھ میں شامل ہو ہو جاتا ہے کے ارد گرد جا رہا ہے سواں کے کے قریب یہ دریا کا پانی ہوتا ہے اس دریا دریا ہے بھی اس ہے اور کیا جا

پڑھیں:

قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان

بھارتی ریاست آسام میں قدرت کے انوکھے مظاہر میں شمار ہونے والے ہولونگ درخت کے منفرد ’ہیلی کاپٹر پھل‘ ایک بار پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟

ڈیپٹیروکارپس ریٹوسس المعروف ہولونگ ایک مضبوط اور بلند قامت درخت ہے جو تقریباً 60 میٹر تک بلند ہو سکتا ہے۔ یہ درخت جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے اور مقامی ثقافتوں میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ اس کی لکڑی تعمیرات، فرنیچر سازی اور کشتیوں کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہے۔

Hollong seeds are a stunning local example of nature's autorotating 'helicopters'! ????????

Globally, maple samaras inspired much of the research into this principle for real helicopters and drones.
The origin of helicopter autorotation (and modern drone/micro-flyer designs) is… https://t.co/jKXLuMq5nR

— Chinnu Senthilkumar (@chinnusenthil1) May 20, 2026

اس درخت کی سب سے دلچسپ خصوصیت اس کے 2 پروں والے پھل ہیں جو شاخوں سے گرنے کے دوران ننھے ہیلی کاپٹر کی طرح گھومتے ہوئے نیچے آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ قدرتی نظام بیجوں کو درخت سے دور زرخیز زمین تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے جہاں ان کی افزائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: کچھ درخت جان بوجھ کر آسمانی بجلی کو گرنے کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟

خشک موسم میں جب درجنوں یہ پھل آسمان سے گھومتے ہوئے زمین کی طرف اترتے ہیں تو یہ منظر دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔

حال ہی میں ایسے ہی ایک منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس نے اس قدرتی مظہر کو عالمی توجہ دلائی۔

مزید پڑھیں: فضائی کمپنی نے مسافر کو جہاز سے اترجانے کے لیے 3 ہزار ڈالر کی پیشکش کیوں کی؟

بھارتی ریاست آسام کو اس نظارے کے لیے بہترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ہولونگ وہاں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہولونگ کو آسام کا سرکاری درخت بھی قرار دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنوب مشرقی ایشیا جنوب مشرقی ایشیا کا حیرت انگیز درخت ہولونگ درخت ہولونگ درخت کے ہیلی کاپٹر پھل‘ ہیلی کاپٹر پھل

متعلقہ مضامین

  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان