data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف پورٹر)صوبائی وزیر بلدیات سندھ و HTP سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت صفائی ستھرائی، پانی کی دستیابی اور WASH انفراسٹرکچر کی بہتری کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر سختی سے عمل پیرا ہے اور صوبے میں اسکولوں، ہیلتھ کیئر سہولیات اور عوامی مقامات پر صنفی، معذور افراد کے لیے قابل رسائی اور موسمیاتی تبدیلی سے مزاحم انفراسٹرکچر کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کو بڑھا رہی ہے تاکہ کمیونٹی کو ہر سطح پر فعال بنایا جا سکے، اور ہر شہری کو صاف پانی، صحت اور صفائی کی سہولیات تک یکساں رسائی حاصل ہو۔

وزیر بلدیات نےکہا کہ ہیلتھ کیئر سینٹرز میں پانی، بیت الخلا اور صفائی کے نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ ہر شہری محفوظ اور مؤثر سہولیات سے مستفید ہو۔ حکومت نے WASH کے منصوبوں میں ضلعی اور صوبائی سطح پر جامع منصوبہ بندی، شفافیت، اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مربوط حکمت عملی کو لازمی قرار دیا ہے، اور خواتین کی زیر قیادت اوور سائٹ کمیٹیاں ذمہ داری کے مؤثر نظام کے لیے تشکیل دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ کمیونٹی کی براہ راست وکالت اور شراکت داری کے بغیر پائیدار تبدیلی ممکن نہیں۔ واٹر ایڈ پاکستان نے “کسی کو پیچھے نہ چھوڑیں: صنفی طور پر حساس اور جامع، موسمیاتی تبدیلی سے مزاحم WASH انفراسٹرکچر کو آگے بڑھانا” کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی پالیسی و ایڈووکیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا، جس میں خواتین، معذور افراد، نوجوان نمائندگان، کمیونٹی ممبران اور سرکاری عہدیداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مشیر چیف منسٹر سندھ نجمی عالم نے کہا کہ کمیونٹی کی سطح پر پانی کے انتظام اور عوامی آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ رکن صوبائی اسمبلی محمد قاسم سومرو نے واٹر ایڈ کی کوششوں کو سراہا اور سرکاری اداروں کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

صنفی مشیر برائے واٹر ایڈ پاکستان رحیمہ پنھور نے کہا کہ اس پالیسی ڈائیلاگ کا مرکزی مقصد ایک ایسا پلیٹ فارم قائم کرنا تھا جہاں کمیونٹی کی آوازیں براہ راست پالیسی سازوں تک پہنچ سکیں اور مؤثر تبدیلی کی وکالت کر سکیں۔

انہوں نے چار اہم ترجیحات بیان کیں جن میں ہیلتھ کیئر سہولیات اور اسکولوں میں WASH انفراسٹرکچر کو ترجیح دینا، اسے صنفی طور پر شامل، معذور افراد کے لیے قابل رسائی اور موسمیاتی تبدیلی کے لیے مزاحم بنانا، حیض کی صفائی کے انتظامات، عمومی رسائی اور حریم خصوصی کے اہم مسائل کا حل، خدمات کی فراہمی کے نظام کو تقویت دینا اور ضلعی و صوبائی سطح پر جامع منصوبہ بندی و نفاذ کے طریقے شامل ہیں۔ اس پینل ڈسکشن میں “HCFs، اسکولوں اور عوامی مقامات میں شامل انفراسٹرکچر کے مواقع اور رکاوٹیں” پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں چیئرمین ہینڈز ویلفیئر فاؤنڈیشن ڈاکٹر تنویر احمد شیخ، ڈپٹی ڈائریکٹر MNCH و FP ڈاکٹر رابعہ، چیف ایڈوائزر و ہیڈ آف صوبائی نصاب ونگ ڈاکٹر فوزیہ خان اور ایم پی اے فرح سہیل شامل تھے۔

پینل ممبران نے آڈٹ کے نتائج کی بنیاد پر صنفی حساسیت، معذور افراد کے لیے رسائی، حیض کی صحت، پرائیویسی، اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے WASH انفراسٹرکچر کی فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

پینل نے سفارش کی کہ خواتین کی زیر قیادت اوور سائٹ کمیٹیوں کے قیام، اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مربوط حکمت عملی، اور ضلعی و صوبائی منصوبہ بندی میں WASH کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے تاکہ کمیونٹی کی شراکت داری اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

ڈائیلاگ کا اختتام YLOC بڈین کی جنرل سیکریٹری ماروی عابدی سموں کے تشکر کے خط کے ساتھ ہوا، جس میں کمیونٹی کی مسلسل وکالت اور شراکت داری کے عزم کی تصدیق کی گئی۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: WASH انفراسٹرکچر معذور افراد شراکت داری کہ کمیونٹی کمیونٹی کی نے کہا کہ اور مو کے لیے

پڑھیں:

اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے 6 امیدوار سامنے آ گئے ہیں۔ عالمی ادارہ اس وقت بڑھتی ہوئی جنگوں، عالمی عدم استحکام اور شدید مالی بحران جیسے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث نئے سربراہ کے انتخاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

امیدواروں میں 4 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ کسی ایک امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں، تاہم ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے رافیل گروسی کا نام سب سے زیادہ مضبوط امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے لیے سلامتی کونسل کے 15 میں سے کم از کم 9 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، تاہم امیدوار کو 5 مستقل ارکان امریکا، برطانیہ، چین، فرانس اور روس میں سے کسی ایک کے ویٹو سے بھی بچنا ہوگا۔ سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد ہی جنرل اسمبلی نئے سیکریٹری جنرل کی باضابطہ منظوری دے گی۔

مشیل باشیلے (چلی)

74 سالہ مشیل باشیلے چلی کی پہلی خاتون صدر رہ چکی ہیں۔ جنرل آگستو پنوشے کی فوجی حکومت کے دوران انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بعد ازاں وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں، جہاں انسانی حقوق سے متعلق ان کے مؤقف، خصوصاً چین کے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق رپورٹ، پر بیجنگ نے سخت تنقید کی۔

باشیلے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے پاس بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اخلاقی قیادت  ہونی چاہیے۔

انہیں میکسیکو اور برازیل کی حمایت حاصل ہے، تاہم چلی کی نئی حکومت نے ان کی حمایت واپس لے لی ہے، جبکہ امریکا بھی اسقاط حمل کے حق میں ان کے مؤقف پر تنقید کرتا رہا ہے۔

ماریا فرنانڈا ایسپینوسا (ایکواڈور)

61 سالہ ماریا فرنانڈا ایسپینوسا ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سابق صدر رہ چکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کا واحد عالمی پلیٹ فارم ہے، تاہم ادارے میں گہری اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔

 

انہوں نے مستقبل کے تنازعات کی پیشگی نشاندہی کے لیے ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning System) قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔

ان کی امیدواری کی حمایت اینٹیگوا اینڈ باربوڈا نے کی ہے، تاہم ان کے اپنے ملک ایکواڈور نے باضابطہ حمایت نہیں کی۔

رافیل گروسی (ارجنٹائن)

65 سالہ رافیل گروسی پیشہ ور سفارت کار ہیں اور 2019 سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور یوکرین کے زاپوریزیا جوہری پلانٹ سے متعلق عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔

گروسی نے سیکریٹری جنرل کی انتخابی مہم چلانے کے لیے اپنے موجودہ عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داریوں سے غفلت کے مترادف ہوگا۔

وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات اور سیکریٹری جنرل کے زیادہ فعال کردار کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

ربیکا گرینسپن (کوسٹا ریکا)

70 سالہ ربیکا گرینسپن کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کی سربراہ ہیں۔

انہوں نے سیکریٹری جنرل کی مہم کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے عارضی رخصت لے رکھی ہے۔

2022 میں انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود اناج معاہدہ  کرانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئیں۔

گرینسپن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ایک ضرورت سے زیادہ محتاط ادارہ بن چکا ہے، جس میں مؤثر فیصلوں کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔

کیرولین روڈریگز برکیٹ (گیانا)

52 سالہ کیرولین روڈریگز برکیٹ گیانا کی سابق وزیر خارجہ اور اس وقت اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل مندوب ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ  دوبارہ بحال کرنا ہوگی۔

ان کے مطابق اقوام متحدہ کو صرف امن و سلامتی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ادارہ ترقی، انسانی حقوق اور دیگر کئی شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔

میکی سال (سینیگال)

64 سالہ میکی سال اس دوڑ میں شامل واحد امیدوار ہیں جو لاطینی امریکا سے تعلق نہیں رکھتے، حالانکہ روایتی طور پر اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا منصب لاطینی امریکا کو ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

سینیگال کے سابق صدر میکی سال امن اور ترقی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہیں۔

ان کی امیدواری سب سے پہلے برونڈی نے، جو اس وقت افریقی یونین کی سربراہی کر رہا ہے، پیش کی تھی، جبکہ سینیگال نے بھی حال ہی میں ان کی باضابطہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔

تاہم سینیگال میں ان پر 2021 سے 2024 کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انتخاب کا طریقۂ کار

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تقرری 5 سال کے لیے ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل امیدوار کے نام کی سفارش کرتی ہے، جس کے بعد 193 رکنی جنرل اسمبلی اس کی توثیق کرتی ہے۔ اگرچہ سلامتی کونسل میں 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی مستقل رکن کا ویٹو امیدوار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی، یوکرین اور غزہ کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور اقوام متحدہ کے مالی مسائل کے باعث اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا انتخاب گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس تصور کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری