ٹریفک کے بعد فوڈ اتھارٹی میں بھی ای چالان شروع کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: سندھ حکومت نے ٹریفک کے بعد فوڈ اتھارٹی میں بھی ای چالان شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
صوبائی وزیر خوراک مخودم محبوب الزمان کی پی پی پی شبعہ خواتین کی مرکزی صدر محترمہ فریال تالپور سے ملاقات ہوئی جس میں فوڈ اتھارٹی کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
صوبائی وزیر خوراک مخودم محبوب الزمان نے بتایا کہ آن لائن رجسٹریشن، کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم اور ڈیجیٹل چالاننگ سسٹم کو متعارف کروایا جائے گا۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے عوام کو بہتر اور شفاف سہولیات فراہم کی جائے گی۔
باغبان پورہ کی خواتین نے بلاول سے سیاست چھڑوا دی، اسکے بعد کیا باتیں ہوئیں؟ دلچسپ رپورٹ
ملاقات میں صوبائی وزیر نے محترمہ فریال تالپور کو غیر معیاری خوراک کے خلاف سندھ فوڈ اتھارٹی کی حالیہ کارروائیوں سے بھی آگاہ کیا۔
صوبائی وزیر نے محترمہ فریال تالپور کو محکمے میں ویٹ اسٹاک پالیسی پر بھی تفصیلی بریفینگ دی۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فوڈ اتھارٹی
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔