حیدرآباد میں کھلی کچہری،عوام نے حیسکو اور سوئی گیس کیخلاف شکایات کے انبار لگادیے
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251211-08-23
حیدرآباد(نمائندہ جسارت)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر صوبے بھر کی طرح حیدرآباد میں بھی عوامی مسائل انکی دہلیز پر حل کرنے اور محکموں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے صوبائی وزیر برائے صحت و بہبود آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے سرکٹ ہاؤس حیدرآباد میں ایک کھلی کچہری منعقد کی۔ جس میں میئر حیدرآباد کاشف علی شورو، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن، ایس ایس پی عدیل چانڈیو، ڈی جی ہیلتھ سندھ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پیر غلام حسین، ایم ایس سول اسپتال حیدرآباد ڈاکٹر ارشاد کاظمی ،محکمہ صحت، تعلیم، ایکسائز، حیسکو، پبلک ہیلتھ، لوکل گورنمنٹ، ہائی ویز، بلڈنگز، آبپاشی، واسا، سوئی گیس، اطلاعات سمیت متعدد دیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے کھلی کچہری میں مختلف شکایات سنتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت عوامی مسائل کو اُن کی دہلیز پر حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس آئی یو ٹی کا ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں قیام کا منصوبہ ہے اور حیدرآباد میں بھی اس کا قیام جلد ممکن بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں موجود طبی سہولیات کو اپ گریڈ کرنے، سول اسپتال کے برنز وارڈ کو بہتر بنانے اور عملے کو تربیت دینے پر کام جاری ہے، جب کہ تعلقہ اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری سے سول اسپتال کا بوجھ کم ہوگا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ نیاز اسٹیڈیم، پارکس کی اپ گریڈیشن اور اسپورٹس گراؤنڈز کے قیام پر بھی سندھ حکومت توجہ دے رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو بہتر کھیلوں کی سرگرمیاں فراہم کی جا سکیں۔ کچی آبادیوں سے متعلق شکایت پر انہوں نے کہا کہ متعلقہ اتھارٹی سے بات کر کے مسائل حل کروائے جائیں گے، کیونکہ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘پیپلز پارٹی کے منشور کا بنیادی حصہ ہے۔ سوئی گیس اور حیسکو سے متعلق شکایات پر صوبائی وزیر نے شہریوں سے کہا کہ اپنی تحریری شکایات میئر حیدرآباد کے دفتر میں جمع کرائیں تاکہ وفاقی محکموں کو بھیجی جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ رنگ روڈ منصوبے کا تقریباً 50 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور جلد بقیہ کام بھی مکمل کرایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوہسار کو پانی کی فراہمی کے لیے 32 انچ قطر کی نئی پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے جس سے پانی کی کمی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ آٹو بھان روڈ پر شراب خانہ کھلنے کے معاملے پر صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ معاملہ سندھ اسمبلی میں اٹھایا جا چکا ہے اور محکمہ ایکسائز اس پر جلد ایکشن لے گا۔ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بتایا کہ حیسکو سے متعلق شکایات کے حل کے لیے سندھ اسمبلی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلاول زرداری وزیر اعظم منتخب ہو جائیں تو وفاقی اداروں سے متعلق شکایات کا ازالہ بھی تیز رفتاری سے ہو سکے گا۔ کھلی کچہری میں شہریوں کی جانب سے زیادہ تر شکایات حیسکو اور سوئی گیس کی عدم فراہمی سے متعلق کی گئی جبکہ اس کے علاؤہ طبی سہولیات کی کمی، اسکولوں میں فرنیچر کی کمی، تجاوزات، صفائی و نکاسی آب، ٹوٹی ہوئی پانی کی لائنوں، نئے پارکس تعمیر کرانے، سڑکوں کی مرمت اور فلٹر پلانٹس کی شکایات سمیت دیگر مسائل پیش کیے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے کچھ شکایات کے فوری ازالے جبکہ کچھ شکایات کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کی اور رپورٹ طلب کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کھلی کچہری شکایات کے نے کہا کہ سوئی گیس انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔