وفاق صوبائی حکومت سے مل کر پالیسی بنائے تو وہ پائیدار ہوگی(سہیل آفریدی)
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کوشش کررہے ہیں
یہ پولیس ہماری ہے، فوج ایف سی دیگر سیکیورٹی اداروں نے قربانیاں دی ہیں،وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق پالیسی صوبائی حکومت سے مل کر بنائے تو وہ پائیدار ہوگی۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوشش کررہے ہیں، 2022ء سے اب تک خیبر پختونخوا میں بدامنی دیکھ رہے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ پولیس فوج کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہی ہے، سی ٹی ڈی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ پولیس ہماری ہے، فوج ایف سی دیگر سیکیورٹی اداروں نے قربانیاں دی ہیں، ان کی محنت کی وجہ سے 2018 سے 2022 تک صوبے میں امن رہا۔سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ وفاق پالیسی صوبائی حکومت سے مل کر بنائے گا، تو وہ پائیدار ہوگی، یہ چیز ہم سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔