وفاق پالیسی صوبائی حکومت سے مل کر بنائے تو وہ پائیدار ہوگی، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق پالیسی صوبائی حکومت سے مل کر بنائے تو وہ پائیدار ہوگی۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خاتمےکے لیےکوشش کررہے ہیں، 2022ء سے اب تک خیبر پختونخوا میں بدامنی دیکھ رہے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ پولیس فوج کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہی ہے، سی ٹی ڈی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ پولیس ہماری ہے، فوج ایف سی دیگر سیکیورٹی اداروں نے قربانیاں دی ہیں، ان کی محنت کی وجہ سے 2018 سے 2022 تک صوبے میں امن رہا۔سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ وفاق پالیسی صوبائی حکومت سے مل کر بنائے گا، تو وہ پائیدار ہوگی، یہ چیز ہم سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کل عمران خان سے ملاقات کا دن، کس کس کےنام بھجوائے گئے؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی کہا کہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔