خیبر پختونخوا کے سرکاری اداروں میں بھرتیاں صرف ایٹا کے ذریعے کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ کسی بھی پرائیویٹ ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے بھرتیاں نہیں کرے گا، سول افسران، بالخصوص ضلعی انتظامیہ کو بلٹ پروف گاڑیاں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور خودمختار اداروں میں بھرتیاں صرف ایٹا کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی منظوری کابینہ نے دے دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، وزیراعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے صدارت کی۔ انہوں نے آئندہ ماہ کے لیے جامع پالیسی گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔ اجلاس میں صوبائی انتظامی اُمور، گڈ گورننس، این ایف سی شیئر، سیکیورٹی صورتحال اور انسانی حقوق سے متعلق متعدد اہم معاملات زیر غور آئے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ کسی بھی پرائیویٹ ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے بھرتیاں نہیں کرے گا، سول افسران، بالخصوص ضلعی انتظامیہ کو بلٹ پروف گاڑیاں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ گاڑیوں کی خریداری میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اسے غیر انسانی اقدام قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اس رویے کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ انہوں ںے وفاقی وزراء کی گزشتہ روز کی حالیہ پریس کانفرنس کو غیرانسانی، غیراخلاقی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی پریس بریفنگز کا مقصد محض عوام کو اشتعال دلانا اور حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایسے ہرعمل کی مذمت کرتی ہے جو ریاستی تقسیم یا عوامی بے چینی کا باعث بنے، اجلاس میں گڈ گورننس سے متعلق اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی گڈ گورننس روڈ میپ دے چکی ہے اور اب اس پر مزید سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ سہیل آفریدی کے مطابق سرکاری اجلاسوں میں سول افسران جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنائیں اور جہاں ممکن ہو، اجلاسوں میں آن لائن شرکت کی جائے تاکہ سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔