عمران خان کی رہائی کے لیے موٹروے کو صوابی کے مقام پر بند کیا جائے گا، احمد خان نیازی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
سابق صوبائی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ آج صوابی انٹرچینج پر احتجاج کا اعلان احمد خان نیازی نے کیا ہے، مرکزی احتجاج اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر ہوگا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پارٹی اور وزیرِ اعلیٰ نے یہ اعلان کیا ہے کہ منتخب لوگ اڈیالہ جیل پہنچیں، اسی ہدایت کے مطابق کارکنان اڈیالہ جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوابی میں ہونے والا احتجاج صرف ٹوکن احتجاج ہے، پارٹی کی مرکزی کال اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کے حوالے سے ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پارٹی میں نظم و ضبط ہونا چاہیے مگر صوابی جلسے میں بدنظمی تھی، شوکت یوسفزئی
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ گورنر راج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، لیکن کیا گورنر راج لگانے سے حالات بہتر ہوں گے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ پشاور میں اقتدار کے حصول کے لیے غلط قسم کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب احمد نیازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کا احتجاج بانیِ پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ہے۔ ان کے مطابق موٹروے کو صوابی کے مقام پر بند کیا جائے گا اور احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بہنوں کی جانب سے احکامات موصول نہیں ہو جاتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آج کا احتجاج صوابی تک محدود رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی احتجاج شوکت یوسفزئی عمران خآن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی احتجاج شوکت یوسفزئی شوکت یوسفزئی پی ٹی آئی کے لیے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔