ثقافتی دن منانا سب کا حق ہے لیکن ریڈ لائن کراس کرنے کی کسی کو اجازت نہیں، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
سندھ کے سینئر صوبائی وزیر ثقافتی دن منانا سب کا حق ہے لیکن کسی بھی جماعت کو ریڈ لائن کراس نہیں کرنی چاہیے اور حکومت کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کی مصروف شاہراہ پر گزشتہ روز سندھ ثقافتی دن کی مناسبت سے ریلی میں ہنگامہ آرائی پر شرجیل میکن نے کہا کہ کلچر ڈے منانا سب کا حق ہے لیکن قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہے، کل ہم نے سب کو کلچر ڈے پر مبارک باد بھی دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی جماعت کو ریڈ لائن کراس نہیں کرنی چاہیے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں بھارتی میڈیا کے ذریعے ملک مخالف سازش کا حصہ بن رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ مظالم برادشت کیے مگر کبھی اداروں کیخلاف سازش نہیں کی،
پیپلزپارٹی نے مارشل لا کا سامنا کیا، آصف زرداری کو بغیر کسی ثبوت اور سزا کے 12 سال جیل میں رکھا گیا مگر ہم نے کبھی ریڈ لائن کراس نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک شخص ملک کے خلاف سازشیں کررہا ہے جو قابل مذمت ہیں اور اس حوالے سے ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے، بھارت ہمیشہ پاکستان کے خلاف رہا ہے اور اُس کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریڈ لائن کراس نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔