پی ٹی آئی نے افواج کے خلاف بیان دے کر ریڈ لائن کراس کی ؛ انڈیا کو انٹرویو دے کر ملک دشمنی کی ؛خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
سٹی 42: خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے ڈی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی اور عمران خان کے بارے میں کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک دوسرے ملک کے میڈیا سے خصوصا اس جنگ کے بعد جو ہماری ان کے ساتھ جو کلیش ہوا ہے اس کے بعد جو ٹینشن جو ہ ابھی بھی اتنی ہائٹ ہے۔ اس کے بعد بھی اگر پاکستان میں ایک سیاست دان کی ہمشیرہ ہیں وہ پاکستان کے متعلق غلط الفاظ استعمال کر رہے ہیں اور ایسے الفاظ کر رہے ہیں جس سے انڈیا خوش ہو رہا ہے۔۔اس گفتگو کی وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ سٹیبلشمنٹ میں اس طرح کے اختلافات ہیں ۔
جعلی ملازمتوں کی پیشکش، ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والوں کو خبردار کردیا
پاکستان کے خلاف ساری سوچ عمران خان کی اور اس کی پارٹی میں ڈیفائن کرتی ہے اگر وہ اس حوالے سے اختلاف کرتے ہیں تو اس کو کنڈم کریں۔ کسی نے نہیں کیا کہ یہ کہاں ا بیٹھے ہوئے ہیں ہمارا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔پاکستان میں جو پی ٹی آئی ہے اس کا کوئی تعلق نہیں پڑتا اور وہ لوگ کسی نے کسی نے کوئی یار کسی نے کنڈم نہیں کیا ۔اس کا مطلب ہے کہ ہر جو بات پاکستان کے خلاف جو پاکستان کی جو موجود ہے اس کے خلاف ہوتی ہے پاکستان کے افواج کے خلاف ہوتی ہے پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ گالیاں دی جاتی ہیں کبھی کسی نے ان کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہ کی ۔ عمران خان کی زبان کو دیکھیں اور عمران خان سر کے اوپر دوپٹہ لے کر جس طرح وہ ایکٹنگ کر سکتا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔
اس سال اب تک سب سے زیادہ فروخت ہونیوالا اسمارٹ فون کونسا ہے؟
خواجہ آسف نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ جو آخری چیز ثابت ہوئی وہ جو میڈیا کو انٹرویوز دیا ہے ۔ اب ہوا مختلف ہیں کہ وہی میں ہماری ایک جنگ ہوئی ہے ان کے ساتھ میڈیا کا رویہ ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ حسین ہے۔ اس کو نواز شریف صاحب نے بھی ماضی میں انٹرویو دیے ہیں انہوں نے انٹرویو دیا تھا تو میں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ کارگل کے حوالے سے کم منایا جائے گا اس کے علاوہ وہ ماضی میں دیکھ چکے ہیں ۔انڈین میڈیا پاکستان میں کوئی بھی تقسیم ہوگی انہیں ہیڈ لائن ملتی ہے وہ تو بنائے گا۔ پی ڈی ایم چلا رہے تھے تو انڈین میڈیا بچاتا تھا اور عمران خان صاحب بھی حوالہ دے رہے ہوتے تھے کہ دیکھیں انڈین میڈیا کو خوش کرنے کے لیے سب کر رہے ہیں تو یہ انڈین میڈیا ملک کی کوئی بات نہیں اگر وہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں یا انڈین کو استعمال کرتے ہیں ۔
میاں صاحب نے انٹرویو دیا لیکن میاں صاحب نے کوئی ایسی بات اس میں نہیں کی جسے پاکستان کی سالمیت و وجود یا پاکستان کے جو ایک تشخص ہے اس کو اٹیک کیا ۔اسی طور پہ کوئی ایک لفظ بتا دیں میں ابھی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں محترمہ نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں پاکستان کے لیے پاکستان کے افواج کے لیے دو چیزوں کو کمپیئر کریں جن میں کچھ سمیلرٹی ہو۔
قائد اعظم ٹرافی کا فائنل؛ کراچی بلوز نے 218 رنز سے سیالکوٹ کو مات دیدی
میاں صاحب کا وقت جو تھا وہ بہت مختلف وقت تھا ان کا وقت تھا اس میں تھوڑا بہت ہمارا ان کا تعلق تھا اج تعلقات بھی ہر قسم کا ختم ہوا ہے اور اس ماحول کے اندر انہوں نے خود ڈلیبرنٹلی انٹرویو دیا ہے
خواجہ آصف نے کہا اس لیے میں ایک اور بات کروں مجھے اج تک بتائیے کہ کسی شہید کا جنازہ ہو پی ٹی ائی کے لیڈر نے پڑھا ہوآپ کو طالبان کو پتہ دیتے ہیں ہ اے سی ایک شہید ہوئے ہیں دو اے سی شہید ہوئے اسسٹنٹ کمشنر شہید ہوئے ہیں ساری دنیا جنازوں پہ پہنچی ہے اس سے افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ ہمارے جو دوست ممالک ہیں وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی نے ایک لفظ نہیں کہا ۔
Currency Exchange Rate Friday December 05, 2025
پیپلز پارٹی نے کچھ کیا اس لیڈر کو شہید کیا گیا اس کے بعد ان کی دوسری جو لیڈر تھی وہ دونوں بے نظیر بھٹو صاحبہ ان کو بھی شہید کیا گیا۔ انہوں نے جو بھی اوازیں دی انڈیا کوجا کے انٹرویو نہیں دیے ۔ نواز شریف کو قید کیا گیا ایک نہیں دو دن تین دفعہ اس کو ریموو کیا گیا۔ اس نے چیلنج کیا پاکستان کو ،پاکستان کی فوج کو یا کسی کو کریٹیسائز ضرور کیا ۔میں نے کڑیسائز کیا ہوا ہے افواج کو ۔میں نے مشرف کے وقت کا ڈیزائن کیا ہوا ہے لیکن ریڈ لائن نہیں کراس کی تھی کہ میں نے انڈیا کو انٹرویو نہیں دیا تھا ۔
سونے اور چاندی کے آج کے ریٹس ۔جمعہ 05 دسمبر ، 2025
مجھے بتائیں کہ کس کس فوجی تنصیبات کے اوپر یا کنٹرولمنٹ کے اوپر یا کورر کمانڈر کے گھر کے اوپر پاکستان کی تاریخ کے اندر 77سالہ تاریخ میں کسی سیاسی پارٹی نے نہیں کیا ۔ پی ٹی آئی نے جہاز جلائے یادداری جلائیں اپ نے شہیدوں کی مجلس میں مسمار کیے۔ کمانڈر کے گھر کے سب یہ تو دشمن کرتا ہے یہ تو ہندوستان کرے گا یہ خدانخواستہ خدانخواستہ جو انہوں نے کیا ہوا ہے
اینکر نے پوچھا کہ اس پریس کانفرنس میں خیبر پختونخواہ کے وزیراعلی کے بارے میں بیان اور وزیراعلی کے فوج کے بارے میں بیان، کیا گورنر راج لگایا جائے گا
خواجہ آصف نے کہا پاکستان جنگ لڑ رہا ہے ادھر جب دہشت گردیوں کی طرف مڑکر بھی نہیں دیکھتے ، پاکستان کی فوج لڑ رہی ہیں یہ اب وہاں پہ جو ہماری انتظامیہ سول انتظامیہ لڑ رہی ہے اور کس صوبے کی بات کر رہے ہیں کس گورنر راج کی بات کر رہے ہیں ں ان کی پرفارمنس جو دیکھیں ان کی اونر شپ جو دیکھیں اونرشپ ہے جب اونر شپ بھی نہیں ہے تو یہ سب آپ کے پاس ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انڈین میڈیا پاکستان کے پاکستان کی کر رہے ہیں خواجہ ا صف پی ٹی ا ئی کے خلاف کے اوپر نہیں کی کیا گیا کے بعد ہوا ہے بات کر
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔