سٹی 42: خواجہ آصف نے  نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں  بات کرتے ہوئے ڈی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے  پی ٹی آئی اور عمران خان  کے بارے میں کہا کہ  میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک دوسرے ملک کے میڈیا سے خصوصا اس جنگ کے بعد جو ہماری ان کے ساتھ جو کلیش  ہوا ہے اس کے بعد جو ٹینشن جو ہ ابھی بھی اتنی ہائٹ ہے۔ اس کے بعد بھی اگر پاکستان میں ایک سیاست دان کی  ہمشیرہ  ہیں وہ پاکستان کے متعلق غلط الفاظ استعمال کر رہے ہیں اور ایسے الفاظ کر رہے ہیں جس سے انڈیا خوش ہو رہا ہے۔۔اس گفتگو کی وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ  وہ سٹیبلشمنٹ میں اس طرح  کے اختلافات ہیں ۔

جعلی ملازمتوں کی پیشکش، ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والوں کو خبردار کردیا

پاکستان کے خلاف  ساری سوچ عمران خان کی اور اس کی پارٹی میں ڈیفائن کرتی ہے اگر وہ اس حوالے سے اختلاف کرتے ہیں تو اس کو کنڈم   کریں۔ کسی نے نہیں کیا کہ یہ  کہاں ا   بیٹھے ہوئے ہیں ہمارا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔پاکستان میں جو پی ٹی آئی ہے اس کا کوئی تعلق نہیں پڑتا اور وہ لوگ کسی نے کسی نے کوئی یار کسی نے کنڈم نہیں کیا ۔اس کا مطلب ہے کہ ہر جو بات پاکستان کے خلاف جو پاکستان کی جو موجود ہے اس کے خلاف ہوتی ہے پاکستان کے افواج کے خلاف ہوتی ہے پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ گالیاں  دی جاتی ہیں کبھی کسی نے  ان کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہ کی ۔ عمران خان کی زبان کو دیکھیں اور عمران خان سر کے اوپر دوپٹہ لے کر جس طرح وہ ایکٹنگ کر سکتا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ 

اس سال اب تک سب سے زیادہ فروخت ہونیوالا اسمارٹ فون کونسا ہے؟

 خواجہ آسف نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ جو آخری  چیز ثابت ہوئی وہ جو میڈیا کو انٹرویوز دیا ہے ۔  اب ہوا مختلف ہیں کہ وہی میں ہماری ایک جنگ ہوئی ہے ان کے ساتھ میڈیا کا رویہ ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ حسین ہے۔ اس کو نواز شریف صاحب نے بھی ماضی میں انٹرویو دیے ہیں انہوں نے انٹرویو دیا تھا تو میں نے  الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ کارگل کے حوالے سے کم منایا جائے گا اس کے علاوہ وہ ماضی میں دیکھ چکے ہیں ۔انڈین میڈیا پاکستان میں کوئی بھی تقسیم ہوگی انہیں ہیڈ لائن ملتی ہے وہ تو بنائے گا۔ پی ڈی ایم  چلا رہے تھے تو انڈین میڈیا بچاتا تھا اور عمران خان صاحب بھی حوالہ دے رہے ہوتے تھے کہ دیکھیں انڈین میڈیا کو خوش  کرنے کے لیے سب کر رہے ہیں تو یہ انڈین میڈیا  ملک کی کوئی بات نہیں اگر وہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں یا انڈین کو استعمال کرتے ہیں ۔
میاں صاحب  نے انٹرویو دیا لیکن میاں صاحب نے کوئی ایسی بات اس میں نہیں کی جسے پاکستان  کی سالمیت و وجود یا پاکستان کے جو ایک تشخص ہے اس کو اٹیک کیا ۔اسی طور پہ کوئی ایک لفظ بتا دیں میں ابھی  تاریخ اٹھا کر  دیکھ لیں محترمہ نے  جو الفاظ استعمال کیے ہیں پاکستان کے لیے پاکستان کے افواج کے لیے دو چیزوں کو کمپیئر کریں جن میں کچھ سمیلرٹی ہو۔

قائد اعظم ٹرافی کا فائنل؛ کراچی بلوز نے 218 رنز سے سیالکوٹ کو مات دیدی

 میاں صاحب کا وقت جو تھا وہ بہت مختلف وقت تھا ان کا وقت تھا اس میں تھوڑا بہت ہمارا ان کا تعلق تھا اج تعلقات بھی ہر  قسم کا ختم ہوا ہے اور اس ماحول کے اندر انہوں نے خود ڈلیبرنٹلی انٹرویو  دیا ہے 

خواجہ آصف نے کہا  اس لیے میں ایک اور بات کروں مجھے اج تک بتائیے کہ کسی شہید کا جنازہ ہو پی ٹی ائی کے لیڈر  نے پڑھا ہوآپ کو طالبان کو پتہ دیتے ہیں ہ اے سی ایک شہید ہوئے ہیں دو اے سی شہید ہوئے اسسٹنٹ کمشنر  شہید ہوئے ہیں  ساری دنیا جنازوں پہ پہنچی ہے اس سے افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ ہمارے جو دوست ممالک ہیں وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں  انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ  میں کسی نے  ایک لفظ نہیں کہا ۔

Currency Exchange Rate Friday December 05, 2025

پیپلز پارٹی نے کچھ  کیا اس لیڈر کو شہید کیا گیا اس کے بعد ان کی دوسری جو لیڈر تھی وہ دونوں بے نظیر بھٹو صاحبہ   ان کو بھی شہید کیا گیا۔ انہوں نے جو بھی اوازیں دی انڈیا کوجا کے انٹرویو  نہیں دیے ۔ نواز شریف کو قید کیا گیا ایک نہیں دو دن تین دفعہ اس کو ریموو کیا گیا۔ اس نے چیلنج کیا پاکستان کو ،پاکستان کی فوج کو یا کسی کو کریٹیسائز ضرور کیا ۔میں نے کڑیسائز کیا ہوا ہے افواج کو ۔میں نے مشرف کے وقت کا ڈیزائن کیا ہوا ہے لیکن ریڈ لائن نہیں کراس کی تھی کہ  میں نے انڈیا کو انٹرویو نہیں دیا تھا ۔

سونے اور چاندی کے آج کے ریٹس ۔جمعہ 05 دسمبر ، 2025

مجھے بتائیں کہ کس کس فوجی تنصیبات کے اوپر یا کنٹرولمنٹ کے اوپر یا کورر کمانڈر کے گھر کے اوپر پاکستان کی تاریخ کے اندر 77سالہ تاریخ میں کسی سیاسی پارٹی نے  نہیں کیا ۔  پی ٹی آئی نے جہاز  جلائے یادداری جلائیں اپ نے شہیدوں کی مجلس میں مسمار کیے۔ کمانڈر کے گھر کے سب یہ تو دشمن کرتا ہے یہ تو ہندوستان کرے گا یہ خدانخواستہ خدانخواستہ جو انہوں نے کیا ہوا ہے

 اینکر نے پوچھا کہ  اس پریس کانفرنس میں خیبر پختونخواہ کے وزیراعلی کے بارے میں بیان اور وزیراعلی کے فوج کے بارے میں بیان، کیا گورنر  راج  لگایا جائے گا 

خواجہ آصف نے کہا پاکستان  جنگ لڑ رہا ہے ادھر جب دہشت گردیوں کی طرف مڑکر بھی نہیں دیکھتے ، پاکستان کی فوج لڑ رہی ہیں یہ اب وہاں پہ جو ہماری انتظامیہ سول انتظامیہ لڑ رہی ہے اور کس صوبے کی بات کر رہے ہیں کس گورنر راج  کی بات کر رہے ہیں ں ان کی پرفارمنس جو دیکھیں ان کی اونر شپ جو دیکھیں اونرشپ ہے جب اونر شپ بھی نہیں ہے تو یہ سب آپ کے پاس ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: انڈین میڈیا پاکستان کے پاکستان کی کر رہے ہیں خواجہ ا صف پی ٹی ا ئی کے خلاف کے اوپر نہیں کی کیا گیا کے بعد ہوا ہے بات کر

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف