مسائل اجاگر کرنے کیلئے ریڈ زون میں دھرنا دینگے، ینگ ڈاکٹرز بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
ترجمان ینگ ڈاکٹرز نے کہا کہ احتجاج کا مقصد ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی سے متعلق قوانین، سروس اسٹرکچر اور شفافیت کے حوالے سے پائے جانیوالے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی سپریم کونسل نے کل ریڈ زن میں دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق احتجاج کا مقصد ٹراما سینٹر اور بی آئی سی وی ڈی سے متعلق قوانین، سروس اسٹرکچر اور شفافیت کے حوالے سے پائے جانے والے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ وائی ڈی سی کی سپریم کونسل کے مطابق ان دونوں میگا پروجیکٹس کے لیے نہ تو کوئی باقاعدہ ایکٹ تشکیل دیا گیا ہے اور نہ ہی سروس اسٹرکچر واضح کیا گیا ہے، جس سے سیکڑوں ڈاکٹرز کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ جب تک باقاعدہ ایکٹ اور سروس اسٹرکچر سامنے نہیں آتا، ان منصوبوں کا افتتاح نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سپریم کونسل نے مطالبہ کیا کہ گزشتہ دنوں ہاؤس آفیسرز کے ساتھ پی ایم ڈی سی قوانین کے برعکس ہونے والے سلوک کی مکمل انکوائری کی جائے اور ہاؤس جاب سے متعلق تمام سہولیات فوری طور پر فراہم کی جائیں۔ پوسٹ گریجویٹس اور ہاؤس آفیسرز کے وظائف میں اضافہ دیگر صوبوں کے مطابق کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سروس اسٹرکچر
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔