پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ معرکہ حق کی فتح تینوں افواج کی ہم آہنگی، جارحانہ فیصلہ سازی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کا نتیجہ ہے، قومی خودمختاری کو دوبارہ چیلنج کیا گیا، تو ہمارا دشمن پاک فضائیہ کو کہیں زیادہ مضبوط اور بہتر تیار پائے گا۔ پی اے ایف اکیڈمی رسالپور میں گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پاک فضائیہ ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پی اے ایف اکیڈمی میں سعودی کیڈٹس کی موجودگی دونوں عظیم ممالک اور ان کی مسلح افواج کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون کی علامت ہے۔ انہوں نے کیڈٹس کو مخاطب کیا کہ آپ کو مادرِ وطن کی فضائی سرحدوں کے دفاع کے مقدس مقصد کا امین بنایا گیا ہے، پوری قوم کی امیدیں آپ کے نوجوان کندھوں پر ہیں، قوم اور پاکستان کی مسلح افواج نے اتحاد کی شاندار مثال پیش کرتے ہوئے دشمن کو اُس کی عددی برتری کے باوجود شکست سے دوچار کیا۔ سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ معرکۂ حق میں حاصل ہونے والی فیصلہ کن کامیابی قومی طاقت کے تمام عناصر کے متحدہ کردار اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کا نتیجہ تھی،جب پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کیا گیا، پاک فضائیہ نے کم تعداد میں لڑنے کی روایتی میراث کو برقرار رکھتے ہوئے دشمن کے سب سے جدید طیارے مار گرائے۔ ایئر چیف مارشل نے کہا کہ ہمارے اقدامات اور آپریشنز مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ متوازن اور موزوں تھے، مقصد تھا کہ عزت کے ساتھ امن قائم ہو، دنیا نے اس سے قبل کبھی فضائی طاقت کے اتنے جرات مندانہ استعمال کو نہیں دیکھا، جو مخصوص ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط تھا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ تصادم نے جدید دور کی فضائی لڑائی کے لیے ایک نصابی مثال قائم کر دی،2025 میں ایک بار پھر پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور تمام شعبوں میں برتری کو ثابت کیا، ہم نے اپنی آپریشنل ڈکٹراین کو جنگی تصورات اور حکمت عملی کے مطابق ترتیب دیا جس میں مالی وسائل کی محدودیت اور ٹیکنالوجیز کی دستیابی کو مدِ نظر رکھا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک فضائیہ نے جدت طرازی کی ایک نہایت جارحانہ اور تخلیقی حکمت عملی کو اپنایا، پاک فضائیہ نے اپنے سمارٹ انڈکشن پروگرام کے ذریعے متعدد جدید لڑاکا طیاروں اور ٹیکنالوجیز کو ریکارڈ وقت میں شامل کیا۔ سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ ملکی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، پاک فضائیہ کے ہر فرد کو ان کے پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور مشکل حالات میں سخت محنت کے لیے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاک فضائیہ نے تمام افواج کے ساتھ مل کر بہادری اور ہم آہنگی سے وطن عزیر کا دفاع کیا، پوری قوم پاک فضائیہ کی ہمت اور جرات پر فخر کرتی ہے، یہ فتح ہماری قومی قیادت کے پختہ عزم کا ثبوت ہے، پاک فضائیہ کی کارکردگی اُس کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور سب کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے، اگر ہماری قومی خودمختاری کو دوبارہ چیلنج کیا گیا، تو ہمارا دشمن پاک فضائیہ کو کہیں زیادہ مضبوط اور بہتر تیار پائے گا، ایک ذمہ دار جوہری طاقت کے طور پر، ہمارے تعلقات عالمی اور علاقائی اہم طاقتوں کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی قیادت اور افواج، ہماری بہادر اور پُرعزم قوم کے ساتھ، ملک کی نظریاتی، جغرافیائی و فضائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت چکانے کے لیے پرُعزم ہیں، پاکستان کے عوام کا اپنی مسلح افواج پر اعتماد بے مثال ہے، جو دہائیوں کی بے لوث خدمت، قربانی اور قوم کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاک فضائیہ نے نے کہا کہ انہوں نے کیا گیا کے ساتھ کے لیے کہ پاک

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد