محنت کشوں کو مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کرنا ہو گی‘ شفیع ملک
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محنت کشوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے انتھک جدوجہد کرنا ہو گی۔ پاکستان میں لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور محنت کشوں کے حقوق غضب کیے جارہے ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے ملک میں غربت میں اضافہ کردیا ہے۔ الکاسب فورم کے تحت محنت کشوں کے مسائل حل کریں گے اور محنت کشوں کی تربیت کے پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔ یہ بات وی ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر محمد شفیع ملک نے الکاسب فورم کے قیام اور اس کے پہلے اجلاس اور مذاکرہ ’’محنت کشوں کے مسائل اور ان کا حل ‘‘ سے اپنے صدارتی خطاب میں کہی۔ مذاکرہ کے مہمان خصوصی نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر خالد خان تھے۔ جبکہ مذاکرہ سے کراچی کے اہم ٹریڈ یونیز رہنما ئوں نے بھی خطاب کیا۔ جس میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اتحاد یونینزکے رہنما سہیل میمن، رشید احمد، صغیر انصاری، ایپوا کے سینئر نائب صدر متین خان، نائب صدر شمس الضحیٰ زبیری، نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے سینئر نائب صدر امیر روان، آرگنائزنگ سیکرٹری رضوان علی،پاکستان اسٹیل پاسلو کے سیکرٹری جنرل علی حیدر گبول، پی آئی اے بحالی مزدور تحریک کے رہنما عارف روہیلہ نے بھی خطاب کیا۔ الکاسب فورم کے انچارچ قاسم جمال نے الکاسب فورم کے قیام کے اغراض ومقاصد بیان کیے۔ پروفیسر شفیع ملک نے کہا کہ این ایل ایف کے تعاون اور مشاورت سے ہم الکاسب فورم کو چلائیں گے اور اس فورم میں شریک ہونے والی شخصیات این ایل ایف ہی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش انتہائی مصائب اور پریشانی کا شکار ہیں اور ان سے نجات کاواحد راستہ محنت کشوں کا اتحاد اور ان کی تربیت ہے۔ محنت کشوں کی قانونی تربیت فراہم کر کے ان کی مشکلات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔اس فورم کے نتائج 6ماہ کے بعد برآمد ہوں گے۔ مہمان خصوصی نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر خالد خان نے کہا کہ سندھ حکومت نے محنت کشوں کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ محنت کشوں کے اداروں میں تشکیل شدہ بورڈ اور کمیٹیوں میں ان افراد کو مسلط کیا جارہا ہے جن کا ٹریڈ یونینز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ محنت کشوںکے ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الکاسب فورم کے محنت کشوں کے کراچی کے
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔