جیکب آباد: مولا داد فیڈرواٹر سپلائی پر بجلی چوری ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251208-11-6
جیکب آباد (نامہ نگار)جیکب آباد مولادا فییڈر واٹر سپلائی پر بڑے پیمانے پر بجلی چوری کا انکشاف ،کارخانے ،چکیاں ہوٹلز بجلی چوری پر چلائے جانے لگے ، تفصیلات کے مطابق جیکب آبادمولاداد فیڈر سے واٹر سپلائی فیڈر پر بڑے پیمانے پر بجلی چوری کا انکشاف ہوا ہے واٹر سپلائی فیڈر کی لائن کھیرتھر کے تالاب تک ہے جس کے با عث واٹر سپلائی پلانٹ سے کھیر تھر لیگوں گرڈ سے آنے والے لائن کے راستے میں بااثروں کے کارخانے ،چکیاں ،ہوٹلز اور گائوں کے گائوں چوری پر چلائے جارہے ہیںاور اس چوری میں بتایا جارہا ہے کہ مبینہ طور بلدیہ اور سیپکو کا عملہ ملوث ملوث ہے ذرائع کے مطابق پورا مولاداد چوری پر چلایا جارہا ہے واٹر سپلائی فیڈر پر چند ماہ قبل بلدیہ نے چیف سیپکو کو خط بھی لکھا تھا لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا بجلی چوری تاحال بلا خوف جاری ہے واٹر سپلائی فیڈر پر سارا دن بلا تعطل بجلی کی فراہمی کی جاتی ہے اسی وجہ سے کئی علائقوں واٹر سپلائی اس وقت ہوتی ہے جب شھر میں بجلی کی فراہمی بند ہوتی ہے اور یہ سلسلہ برسوں سے چلا آرہا ہے، یاد رہے کہ میڈیا پر نشاندہی کے باوجود بجلی چوروں کے خلاف کاروائی نہ ہونا افسوسناک ہے۔ عوام نے وزیر پانی و بجلی اویس لغاری اور وزارت توانائی کے دیگر حکام سے نوٹس لینے اور ملو ث عملے کے خلاف مثالی کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بجلی چوروںکی سہولت کاری میں ملوث عملے حوصلہ شکنی ہوسکے اور آئندہ ایسے غیر قانونی کام میں ملوث ہوکر ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوئی ملازم جرائت نہ کرسکے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بجلی چوری
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔