پنجاب میں شہری علاقوں میں طلاق کی شرح نئی بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
پنجاب میں طلاق کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں صرف ایک سال کے دوران پونے 2 لاکھ سے زائد طلاق کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں طلاق کی شرح دیہی علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، طلاق اور خلع کے ضمن میں لاہور صوبے بھر میں سر فہرست رہا، جہاں 21 ہزار سے زائد طلاق کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ میرا سیٹھی کی طویل خاموشی کے بعد طلاق کی تصدیق، وجہ کیا بتائی؟
اسی طرح فیصل آباد میں 14 ہزار سے زائد، شیخوپورہ میں 11 ہزار سے زائد اور راولپنڈی میں 10 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ میں بھی طلاق کے کیسز کی تعداد 8 ہزار سے زائد رہی۔
قصور میں 5 ہزار سے زیادہ جبکہ ساہیوال اور اوکاڑہ میں 4 ہزار سے زائد طلاقوں کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے جذباتی تعلقات طلاقوں کی نئی وجہ بنتے جا رہے ہیں، انتباہ
مزید برآں، خانیوال، منڈی بہاؤالدین اور وہاڑی میں بھی ہزاروں کی تعداد میں طلاق کیسز سامنے آئے، جبکہ ننکانہ صاحب اور خوشاب میں بھی اسی طرح تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چنیوٹ، بھکر اور مظفرگڑھ میں بھی سینکڑوں جوڑوں نے علیحدگی کا راستہ اختیار کیا۔
اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ نہ صرف شہری بلکہ پنجاب کے دیہی اضلاع میں بھی طلاق کی شرح سال بہ سال نمایاں اضافہ دکھا رہی ہے، جو معاشرتی ماہرین کے مطابق سماجی رویّوں، معاشی دباؤ اور خاندانی نظام میں تبدیلیوں کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب خانیوال سرٹیفیکٹس سیالکوٹ طلاق گجرات لاہور منڈی بہاؤالدین ننکانہ صاحب وہاڑی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خانیوال سرٹیفیکٹس سیالکوٹ طلاق گجرات لاہور منڈی بہاؤالدین ننکانہ صاحب وہاڑی کے مطابق میں طلاق طلاق کے طلاق کی میں بھی
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔