خطے کیلئے اصل خطرہ ایران نہیں بلکہ اسرائیل ہے، سعودی شہزادہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اپنی ایک تقریر میں ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ اس خطے میں پہلے ہی ایک ایسی رژیم ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور وہ اسرائیل ہے، لیکن کوئی بھی اسرائیل کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ اسلام ٹائمز۔ میلکن انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے "مشرق وسطیٰ اور افریقہ" کے عنوان سے ایک کانفرنس ہوئی، جس سے سعودی شہزادے "ترکی الفیصل" نے خطاب کیا۔ اس موقع پر ترکی الفیصل نے کہا کہ میری نظر میں، اسرائیل ہی افراتفری کا باعث ہے جسے امریکہ کو قابو کرنا چاہئے۔ انہوں نے لبنان، شام اور غزہ پر صیہونی جارحیت کا حوالہ دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ صیہونی رژیم خود کو بہت طاقتور سمجھتی ہے اور بے لگام ہے۔ سعودی شہزادے نے مزید کہا کہ جب اسرائیل قریباً ہر روز شام پر بمباری کرتا ہے، غزہ و ویسٹ بینک میں فلسطینیوں پر اپنی جارحیت برقرار رکھتا ہے اور بظاہر جنگ بندی کے باوجود، لبنان پر بھی حملہ کرتا ہے تو اسے خطے میں امن کا سفیر کیسے کہا جا سکتا ہے؟۔ اپنی تقریر میں ترکی الفیصل نے چند ماہ قبل "دوحہ" میں "حماس" کے وفد پر ہونے والے اسرائیلی حملے کا ذکر بھی کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ درحقیقت یہ حملہ ایک سنجیدہ الٹی میٹم تھا، جس سے واضح ہوا کہ خلیجی ممالک کو اپنے دفاع کے لئے متحد ہونا پڑے گا۔ اب خلیج تعاون کونسل میں دفاعی ہم آہنگی کوئی نیا مسئلہ نہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ ترکی الفیصل کے یہ خیالات، خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے اس بیان کی جانب اشارہ ہیں جس میں کونسل نے کہا کہ وہ مشترکہ ایئر ڈیفنس سسٹم قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔ ترکی الفیصل نے سعودی عرب کی جانب سے جوہری ہتھیار کی تیاری کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ خطے میں افراتفری اور عدم تحفظ کا تقاضا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے معاملے کا ہمہ جہتی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس خطے میں پہلے ہی ایک ایسی رژیم ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور وہ اسرائیل ہے، لیکن کوئی بھی اسرائیل کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ اس لئے ہمیں چوکنا رہنا چاہئے اور بہترین صورت حال یعنی اجتماعی تباہی کے ہتھیاروں سے پاک خطہ قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اپنی تقریر کے اختتام پر سعودی شہزادے نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کرنا اور صیہونی رژیم کے اقدامات پر دنیا کی جانب سے سنجیدہ ردعمل نہ آنا، نئی انتہاء پسند تحریکوں کے ابھرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ ابوظبی میں ہونے والی اس تقریب میں سابق سعودی انٹیلیجنس چیف نے زور دیا کہ عام رجحان کے برعکس، خطے کو ایران کی بجائے اسرائیل سے خطرہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترکی الفیصل نے کہا کہ انہوں نے کی جانب
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم