data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ممبر جوڈیشل کمیشن کو ناصر باغ کا دورہ کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی ۔ لاہو ر ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر سماعت کی ۔ دوران سماعت ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ناصر باغ میں درخت کاٹے جارہے ہیں۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ بار بار کہنے کے باوجود درخت کیسے کٹ جاتے ہیں، حکومت بھی کہہ رہی ہے کہ درخت نہیں کاٹے جائیں گے، ناصر باغ کے قریب درخت کاٹے جارہے ہیں ،یہ معاملہ کیا ہے؟۔وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ کوئی درخت نہیں کاٹے جا رہے۔پی ایچ اے کے وکیل نے بتایا کہ سخت ہدایات ہیں کہ کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا۔وکیل ایل ڈی اے نے مزید کہا کہ ناصر باغ میں وکلاء کیلئے زیر زمین پارکنگ بنا رہے ہیں۔جسٹس شاہد کریم نے ممبر جوڈیشل کمیشن کو ہدایت کی کہ ناصر باغ کا دورہِ کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کریں، مجھے جو تصاویر ملی ہیں اس میں تو درخت کاٹے ہوئے ہیں، ناصر باغ کی بڑی تاریخی حیثیت ہے۔ پی ایچ اے کے وکیل نے بتایا کہ 123میں سے 121درخت ٹرانسپلانٹ ہو ئے ، ہم نے تھرڈ پارٹی این جی او کو بھی اس میں ساتھ رکھا، صرف دو درخت ایسے ہیں جن کی ہلکی سی ٹرمنگ کی گئی۔۔عدالت نے کہا کہ خوشی اس بات کی ہے اس عدالت سے گزشتہ سات سال میں جو حکم ہوئے اسے حکومت تسلیم کر رہی ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ سکول بسز کے حوالے سے بھی ہمارا حکم تھا حکومت اس طرف نہیں آرہی۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آج میں نے راستے میں دیکھا کہ پنجاب یونیورسٹی کی بسیں دھواں چھوڑ رہی تھیں، جامعہ پنجاب کی بسوں کی انسپکشن کریں اور دھواں چھوڑنے والی بسیں بند کریں۔سکولز کو یہ مت بولیں کہ ایک ساتھ ہی پچاس بسز لے لیں، ان سے کہیںکہ تھوڑے سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں۔ ممبرجوڈیشل کمیشن نے کہا کہ چھوٹے سکولز کو اس میں سے نکالنے کی گزارش ہے، چھوٹے سکولز پر خریداری کی شرط نہ رکھیں، عدالت ان سے کہے کہ وہ کنٹریکٹرز سے بسیں سب لٹ کریں۔عدالت نے مزید کہا کہ واسا اب بہت امیر ہو چکا ہے، بتائیں پانی کے میٹرز کا کیا بنا؟ ۔ وکیل واسا نے بتایا کہ واسا نے اب تک 1300 میٹر خریدے ہیں، جوہر ٹائون میں260 میٹرز لگائے جا چکے ہیں، عدالت نے پوچھا کہ یہ میٹرز کہاں سے خریدے گئے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ یہ سب امپورٹڈ میٹرز ہیں، ہم نے اپنے سورسز سے پانچ سو ملین کا فنڈ واٹر میٹرز کے لیے مختص کر دیا ہے۔

خبر ایجنسی گلزار.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جسٹس شاہد کریم نے نے بتایا کہ نے کہا کہ عدالت نے

پڑھیں:

لاہور سمیت پنجاب میں شدید اسموگ: شہری مسلسل خطرناک آلودگی کی زد میں

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: پنجاب ایک بار پھر شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہے، خاص طور پر صوبائی دارالحکومت لاہور میں اسموگ کا بحران سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔

موسمِ سرما کی آمد اور نمی میں اضافے کے ساتھ ساتھ صنعتی اخراج، ٹریفک کے دھوئیں اور غیر معیاری فیول کے استعمال نے فضا کو اس حد تک آلودہ کردیا ہے کہ شہریوں کی صحت براہِ راست متاثر ہورہی ہے۔

عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور اس وقت پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں بھی نمایاں طور پر شامل ہے۔ آج ریکارڈ کیے گئے مجموعی ائیر کوالٹی انڈیکس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جس کا موجودہ درجہ 331 بتایا گیا، جو ’خطرناک‘ کیٹیگری میں شمار ہوتا ہے اور سانس، دل، آنکھوں اور دماغی صحت کے لیے انتہائی مضر سمجھا جاتا ہے۔

پنجاب کے دیگر شہر بھی اس گہری دھند اور آلودگی سے محفوظ نہیں۔ قصور میں اے کیو آئی 327 درج کیا گیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہاں کی فضا بھی معمول کے مطابق سانس لینے کے قابل نہیں رہی۔ نارووال میں آلودگی کا انڈیکس 313 تک پہنچ گیا ہے جبکہ شیخوپورہ میں پارٹیکولیٹ میٹرز 292 ریکارڈ کیے گئے، جو عالمی معیار کے مطابق شدید آلودہ فضا کی علامت ہے۔

مذکورہ شہروں میں نہ صرف شہریوں کی روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں بلکہ پھیپھڑوں اور الرجی کے مریضوں کے لیے صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔

عالمی سطح پر جاری ماحولیاتی درجہ بندی میں لاہور دنیا کے 6 آلودہ ترین شہروں میں شامل ہوگیا ہے، جبکہ کراچی بھی خراب فضائی معیار کے باعث 14 ویں نمبر پر ہے۔

یہ وہ اعداد و شمار ہیں جنہوں نے ماہرینِ ماحولیات کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مربوط حکمتِ عملی اختیار نہ کی تو صورتحال آنے والے ہفتوں میں مزید بگڑ سکتی ہے، خصوصاً جب سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا اور اسموگ زمین کے قریب مزید جمنے لگے گی۔

شدید دھند کے باعث بین الاضلاعی سفر بھی متاثر ہوا ہے۔ موٹروے حکام نے شہریوں کی حفاظت کے پیشِ نظر ایم ون کو پشاور ٹول پلازہ سے برہان تک بند کردیا ہے۔ حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کی وجہ سے موٹروے پر سفر خطرناک قرار دیا گیا ہے، اور ٹریفک پولیس نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی, لاہور ہائیکورٹ نےرپورٹ طلب کر لی۔
  • سمجھ نہیں آ رہا کہ بار بار کہنے کے باوجود درخت کیسے کٹ جاتے ہیں؟ عدالتی ریمارکس
  • لاہور ہائیکورٹ کا اسموگ تدارک کیس میں جامعہ پنجاب کی انسپیکشن اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرنے کا حکم
  • اسموگ تدارک کیس؛ عدالت کا جامعہ پنجاب کی انسپیکشن، دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرنے کا حکم
  • لاہور ہائیکورٹ نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی پر رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی: بن قاسم موڑ کے قریب آگ، درخت اور گھریلو سامان جل کر خاکستر
  • لاہور اور بہاولپور سے کمسن بچیوں کاوالدہ سمیت اغوا، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اسلام آباد طلب
  • لاہور ہائیکورٹ: پیکا قانون کے تحت سزا یافتہ مجرم سلمان مرتضیٰ کی 3 سال قید معطل، ضمانت منظور
  • لاہور سمیت پنجاب میں شدید اسموگ: شہری مسلسل خطرناک آلودگی کی زد میں