لاہور،اسموگ تدارک کیس ، عدالت نے درختوں کی کٹائی پر رپورٹ طلب کر لی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ممبر جوڈیشل کمیشن کو ناصر باغ کا دورہ کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی ۔ لاہو ر ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر سماعت کی ۔ دوران سماعت ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ناصر باغ میں درخت کاٹے جارہے ہیں۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ بار بار کہنے کے باوجود درخت کیسے کٹ جاتے ہیں، حکومت بھی کہہ رہی ہے کہ درخت نہیں کاٹے جائیں گے، ناصر باغ کے قریب درخت کاٹے جارہے ہیں ،یہ معاملہ کیا ہے؟۔وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ کوئی درخت نہیں کاٹے جا رہے۔پی ایچ اے کے وکیل نے بتایا کہ سخت ہدایات ہیں کہ کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا۔وکیل ایل ڈی اے نے مزید کہا کہ ناصر باغ میں وکلاء کیلئے زیر زمین پارکنگ بنا رہے ہیں۔جسٹس شاہد کریم نے ممبر جوڈیشل کمیشن کو ہدایت کی کہ ناصر باغ کا دورہِ کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کریں، مجھے جو تصاویر ملی ہیں اس میں تو درخت کاٹے ہوئے ہیں، ناصر باغ کی بڑی تاریخی حیثیت ہے۔ پی ایچ اے کے وکیل نے بتایا کہ 123میں سے 121درخت ٹرانسپلانٹ ہو ئے ، ہم نے تھرڈ پارٹی این جی او کو بھی اس میں ساتھ رکھا، صرف دو درخت ایسے ہیں جن کی ہلکی سی ٹرمنگ کی گئی۔۔عدالت نے کہا کہ خوشی اس بات کی ہے اس عدالت سے گزشتہ سات سال میں جو حکم ہوئے اسے حکومت تسلیم کر رہی ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ سکول بسز کے حوالے سے بھی ہمارا حکم تھا حکومت اس طرف نہیں آرہی۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آج میں نے راستے میں دیکھا کہ پنجاب یونیورسٹی کی بسیں دھواں چھوڑ رہی تھیں، جامعہ پنجاب کی بسوں کی انسپکشن کریں اور دھواں چھوڑنے والی بسیں بند کریں۔سکولز کو یہ مت بولیں کہ ایک ساتھ ہی پچاس بسز لے لیں، ان سے کہیںکہ تھوڑے سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں۔ ممبرجوڈیشل کمیشن نے کہا کہ چھوٹے سکولز کو اس میں سے نکالنے کی گزارش ہے، چھوٹے سکولز پر خریداری کی شرط نہ رکھیں، عدالت ان سے کہے کہ وہ کنٹریکٹرز سے بسیں سب لٹ کریں۔عدالت نے مزید کہا کہ واسا اب بہت امیر ہو چکا ہے، بتائیں پانی کے میٹرز کا کیا بنا؟ ۔ وکیل واسا نے بتایا کہ واسا نے اب تک 1300 میٹر خریدے ہیں، جوہر ٹائون میں260 میٹرز لگائے جا چکے ہیں، عدالت نے پوچھا کہ یہ میٹرز کہاں سے خریدے گئے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ یہ سب امپورٹڈ میٹرز ہیں، ہم نے اپنے سورسز سے پانچ سو ملین کا فنڈ واٹر میٹرز کے لیے مختص کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس شاہد کریم نے نے بتایا کہ نے کہا کہ عدالت نے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :