دنیا بھر میں غیر رجسٹرڈ وی پی این قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد(ویب ڈیسک) دنیا بھر میں غیر رجسٹرڈ وی پی این کے استعمال کو قومی سلامتی کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ پاکستان سمیت مختلف ممالک میں اس کے بے لگام استعمال سے سیکیورٹی اداروں کی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ غیر رجسٹرڈ وی پی این نہ صرف دہشت گردوں، جرائم پیشہ گروہوں اور شدت پسند عناصر کے لیے ڈھال بن چکا ہے بلکہ یہ حملوں کی منصوبہ بندی، غیر قانونی سرگرمیوں، مالی جرائم اور گمراہ کن مواد کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
عالمی سطح پر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے وی پی این کے ذریعے صارف اپنی شناخت مکمل طور پر چھپا لیتا ہے، جس کے باعث کسی بھی مشتبہ سرگرمی کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں ہونے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غیر رجسٹرڈ وی پی این دہشت گردوں اور مجرمانہ نیٹ ورکس کو خفیہ رابطوں، فنڈز کی منتقلی اور ڈیجیٹل حملوں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے بھی غیر قانونی یو آر ایلز اور غیر اخلاقی مواد پھیلانے والی ویب سائٹس کو تصدیق کے بعد بلاک کیا جا رہا ہے، جب کہ صرف منظور شدہ اور رجسٹرڈ وی پی این کے استعمال کی سفارش کی جا رہی ہے۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق غیر مصدقہ وی پی اینز کے استعمال سے دہشت گرد گروہ فائدہ اٹھاتے ہیں، جس سے قومی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کے ذریعے اربوں روپے کی ٹیکس چوری اور فیس کی منتقلی بیرون ملک ہو جاتی ہے، جس سے ملکی خزانے پر بھی بھاری بوجھ پڑ رہا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق بھارت نے بھی وی پی این خدمات پر سخت نئی ہدایات جاری کر کے نگرانی بڑھا دی ہے۔ بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق حکومت نے وی پی این سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے صارفین کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی لازمی شرط عائد کی ہے۔ دوسری جانب بھارتی اخبار دی ہندو نے رپورٹ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے راجوڑی اور پونچھ اضلاع میں سیکیورٹی خدشات کے باعث دو ماہ کے لیے وی پی این سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی وی پی این نہ صرف قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ انٹرنیٹ ٹریفک میں اضافے اور سرورز کے حد سے زیادہ استعمال کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ مفت وی پی این سروسز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیوں کہ ماہرین کے مطابق یہ سروسز درحقیقت صارف کی پرائیویسی کی قیمت پر چلتی ہیں اور ان کے ذریعے ذاتی ڈیٹا بیچنے کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔
سیکیورٹی اداروں اور سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کے بڑھتے ہوئے استعمال کا فوری تدارک ناگزیر ہے، اور صرف پی ٹی اے سے منظور شدہ اور رجسٹرڈ وی پی این کے استعمال ہی سے پاکستان کو ممکنہ سنگین خطرات سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: غیر رجسٹرڈ وی پی کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی پی این کے کے استعمال کے مطابق رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔