واشنگٹن میں فائرنگ کرنیوالے افغان شہری کا الزامات سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرکے ایک نیشنل گارڈ کو ہلاک اور دوسرے کو شدید زخمی کرنے والے افغان شہری نے الزامات سے انکار کیا ہے۔
29 سال کے افغان شہری رحمان اللّٰہ لکن وال نے اسپتال کے بیڈ سے ویڈیو کے ذریعے تمام الزامات کو مسترد کردیا۔
اس دوران ملزم نے تکلیف کے باعث اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔
واشنگٹن ڈی سی کے مجسٹریٹ جج رینی ریمنڈ نے رحمان اللّٰہ لکن وال کو حراست میں رکھنے کاحکم دیا اور کہا یہ بالکل واضح ہے کہ مسلح ملزم 3000 میل کا سفر طے کرکے ایک خاص مقصد کے لیے آیا۔
استغاثہ نے الزام لگایا کہ ملزم نے فائرنگ کرتے وقت اللّٰہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک