واشنگٹن میں فائرنگ کرنیوالے افغان شہری کا الزامات سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرکے ایک نیشنل گارڈ کو ہلاک اور دوسرے کو شدید زخمی کرنے والے افغان شہری نے الزامات سے انکار کیا ہے۔
29 سال کے افغان شہری رحمان اللّٰہ لکن وال نے اسپتال کے بیڈ سے ویڈیو کے ذریعے تمام الزامات کو مسترد کردیا۔
اس دوران ملزم نے تکلیف کے باعث اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔
واشنگٹن ڈی سی کے مجسٹریٹ جج رینی ریمنڈ نے رحمان اللّٰہ لکن وال کو حراست میں رکھنے کاحکم دیا اور کہا یہ بالکل واضح ہے کہ مسلح ملزم 3000 میل کا سفر طے کرکے ایک خاص مقصد کے لیے آیا۔
استغاثہ نے الزام لگایا کہ ملزم نے فائرنگ کرتے وقت اللّٰہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔