ایران میں غیر قانونی طور پر داخل ہونیوالے 10 افغان شہری ایرانی بارڈر گارڈز کی فائرنگ سے ہلاک: افغان حکام کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے کم از کم 10 افغان شہری ایرانی سرحدی محافظوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے مغربی صوبے فراہ میں سکیورٹی کمان کے ترجمان محمد نسیم بدری نے سرکاری ریڈیو کو بتایا کہ یہ افراد ’روزگار کی تلاش‘ میں ایران جا رہے تھے۔ پیر کی رات جب وہ شیخ ابو نصر فراحی بارڈر پوائنٹ کے ذریعے ایران کی حدود میں داخل ہوئے تو ایرانی گارڈز نے فائرنگ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
ترجمان کے مطابق تمام مقتولین صوبہ فراہ کے رہائشی تھے اور غیر قانونی طور پر سرحد پار کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسی گروہ کے دو افراد اب تک لاپتا ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایران کی جانب سے اس حادثے پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت رونما ہوا ہے جب ایران اور افغانستان کی سرحد پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران سینکڑوں افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کر چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا