ایران میں غیر قانونی طور پر داخل ہونیوالے 10 افغان شہری ایرانی بارڈر گارڈز کی فائرنگ سے ہلاک: افغان حکام کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے کم از کم 10 افغان شہری ایرانی سرحدی محافظوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے مغربی صوبے فراہ میں سکیورٹی کمان کے ترجمان محمد نسیم بدری نے سرکاری ریڈیو کو بتایا کہ یہ افراد ’روزگار کی تلاش‘ میں ایران جا رہے تھے۔ پیر کی رات جب وہ شیخ ابو نصر فراحی بارڈر پوائنٹ کے ذریعے ایران کی حدود میں داخل ہوئے تو ایرانی گارڈز نے فائرنگ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
ترجمان کے مطابق تمام مقتولین صوبہ فراہ کے رہائشی تھے اور غیر قانونی طور پر سرحد پار کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسی گروہ کے دو افراد اب تک لاپتا ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایران کی جانب سے اس حادثے پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت رونما ہوا ہے جب ایران اور افغانستان کی سرحد پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران سینکڑوں افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کر چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔