پی آر اے پارلیمانی جمہوری نظام کا مضبوط ستون ہے،عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑنے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نے کہا کہ پی آر اے کے ساتھ ہمیشہ گہرا رشتہ رہا ہے اور پریس گیلری ایوان کا لازمی حصہ محسوس ہوتی ہے۔
وزیر اطلاعات نے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن ہمیشہ قومی، سماجی اور صحافتی ایشوز پر مضبوط اور فعال آواز کے طور پر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب صحافی واک آؤٹ کرتے ہیں تو انہیں وہی عزت اور پروٹوکول ملتا ہے جو ایوان کے اراکین کو حاصل ہے، جو ایک منفرد اعزاز ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی آر اے پارلیمانی عمل اور جمہوری نظام کا مضبوط ستون ہے اور ان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ صحافیوں کے ساتھ رابطہ برقرار رہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت صحافیوں کے مسائل کے حل، ان کے روزگار کے تحفظ اور بہتر ورکنگ ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافیوں کو اپنا حلقہ اور ان کا کسٹوڈین سمجھتا ہوں اور پی آر اے کے کردار کو مزید فعال بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ صحافیوں کو ملازمتوں سے نکالنے کے مسئلے پر پی آر اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو اپنی سفارشات ارسال کرے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن کا قیام خوش آئند ہے، جس میں تمام بڑی صحافتی تنظیموں کی نمائندگی موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن کا پہلا اجلاس ہو چکا ہے اور جاب سیکورٹی صحافیوں کا بنیادی حق ہے جس کے لیے وہ ہمیشہ صحافی برادری کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
وزیر اطلاعات نے پی آر اے سے کہا کہ وہ ورکنگ ماحول بہتر بنانے کے لیے تجاویز دیں، حکومت ان پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام مسائل کا حل مل کر نکالا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات نے کہا کہ انہوں نے پی آر اے کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔